غلام خواتین پر غیر انسانی تجربات: جدید گائناکالوجی کی متنازع بنیاد

طب کی تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور اور بدنام زمانہ واقعہ جس میں غلام عورتوں پر آپریشن کے تجربات کیے گئے، وہ امریکی ڈاکٹر جے میریون سمز (Dr. J. Marion Sims) کے کیے گئے تجربات ہیں۔

​ڈاکٹر سمز، جنہیں “جدید گائنکالوجی کا باپ” بھی کہا جاتا ہے، نے 1845ء سے 1849ء کے دوران الاباما میں متعدد غلام سیاہ فام خواتین پر بغیر بے ہوشی (anesthesia) کے تکلیف دہ سرجری کے تجربات کیے تاکہ وہ پیدائش کے بعد کی پیچیدگیوں، خاص طور پر ویسیکو ویجائنل فسٹولا (Vesicovaginal Fistula) کا علاج دریافت کر سکیں۔
​ان تجربات کا سب سے بڑا ظلم یہ تھا کہ ان خواتین سے ان کی مرضی نہیں لی گئی، اور چونکہ وہ غلام تھیں، ان کے مالکان کی رضامندی ہی کافی سمجھی جاتی تھی۔
​ڈاکٹر سمز کے ریکارڈز سے ہمیں تین خواتین کے نام معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ تکلیف برداشت کی اور ان کے تجربات میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں:

​آنارچا (Anarcha): ایک نوجوان خاتون جن پر فسٹولا کو ٹھیک کرنے کی کوشش میں 30 سے زیادہ بار آپریشن کیا گیا۔
​بیٹسی (Betsey)

​لوسی (Lucy)

​آج کل بہت سے مؤرخین اور اخلاقیات کے ماہرین ان خواتین کو “مدرز آف گائنکالوجی” (Mothers of Gynecology) کے نام سے یاد کرتے ہیں تاکہ ان کی قربانیوں اور اذیت کو تسلیم کیا جا سکے، جس کی بنیاد پر جدید گائنکالوجی کی بنیاد رکھی گئی۔

جے۔ ماریون سمز اور غلام خواتین
​سمز نے 1840ء کی دہائی میں امریکہ میں سیاہ فام غلام خواتین پر بار بار تجرباتی سرجریاں کیں۔
​خریدنا یا کرائے پر لینا: سمز نے تجربات کے لیے غلام خواتین کو ان کے مالکان سے کرائے (Lease) پر لیا تاکہ ان کے جسموں پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، سمز نے ایک مریضہ کو باقاعدہ خریدا بھی کیونکہ اس کا کیس منفرد تھا اور مالک تجرباتی سرجری پر اپنی “سرمایہ کاری” کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔

​انارچا، لوسی اور بیٹسی: ان میں سب سے مشہور خواتین کے نام انارچا (Anarcha)، لوسی (Lucy)، اور بیٹسی (Betsey) ہیں۔ یہ نوعمر لڑکیاں تھیں جنہیں زچگی کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہونے والی دائمی تکلیف (وسیکو ویجنل فسٹولا) کا علاج کرنے کے بہانے استعمال کیا گیا۔
​رضامندی کی کمی: چونکہ یہ خواتین غلام تھیں، اس لیے ان کی رضامندی (Consent) کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ سرجری کی اجازت صرف ان کے مالک سے لی جاتی تھی۔

​بغیر اینستھیزیا کے تجربات: سمز نے ان تکلیف دہ آپریشنز کے لیے بے ہوشی کی دوا (Anesthesia) استعمال نہیں کی، کیونکہ وہ ایک نسل پرستانہ مفروضے پر یقین رکھتا تھا کہ سیاہ فام لوگ سفید فام لوگوں کی طرح درد محسوس نہیں کرتے۔

​انارچا نے، اکیلے، کامیاب علاج سے پہلے 30 بار تک آپریشن کی اذیت برداشت کی۔ ان خواتین کا درد اور قربانی جدید گائناکالوجی کی بنیاد بنا، لیکن یہ سب ان کے انسانی حقوق کی سنگین پامالی کی قیمت پر ہوا۔
​ان خواتین کو اب “مدرز آف گائناکالوجی” (Mothers of Gynecology) کے طور پر یاد کیا جاتا ہے تاکہ ان کے استحصال کو پہچانا جا سکے اور انہیں عزت دی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں