کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نور محمد قاضی نے کہا ہے کہ بچوں کے تحفظ، عوامی صحت اور والدین کے اعتماد پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی ڈاکٹر نور قاضی کے مطابق بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019 کے تحت کمیشن صوبے بھر میں قائم صحت سے متعلق اداروں اور سہولیات کی ریگولیٹری نگرانی کا ذمہ دار ہے تاکہ لائسنسنگ، معیار اور حفاظتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے اور عوامی صحت کا تحفظ ممکن ہو انہوں نے بتایا کہ 07 جنوری 2026 کو سوشل میڈیا پر کوئٹہ میں واقع الشفا نرسری سے متعلق بچوں کی مبینہ غلط شناخت اور آپس میں تبدیلی کا سنگین واقعہ رپورٹ ہوا، جس نے عوامی تشویش کو جنم دیا۔ واقعے کی نوعیت اور بچوں کے تحفظ سے جڑے حساس پہلوؤں کے پیشِ نظر فوری ریگولیٹری کارروائی ناگزیر ہو گئی چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن نے بتایا کہ واقعے کے بعد سرکاری کمپلائنس مہم کے تحت کمیشن کی خصوصی معائنہ ٹیم نے 08 جنوری 2026 کو الشفا نرسری کا موقع پر تفصیلی معائنہ کیا۔ یہ معائنہ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ہدایات پر بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019 اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت قانونی، ریگولیٹری اور حفاظتی تقاضوں کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ڈاکٹر نور قاضی کے مطابق معائنے کے دوران ریگولیٹری قوانین کی متعدد خلاف ورزیوں کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد الشفا نرسری کی انتظامیہ کو رجسٹریشن منسوخی سے متعلق باضابطہ نوٹس جاری کیا گیا اور انہیں عدالتی سماعت کے لیے بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی قانون کے مطابق نرسری کو سیل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ادارے کو باقاعدہ طور پر سیل کر دیا گیا انہوں نے واضح کیا کہ جاری کردہ نوٹس میں نفاذی کارروائی کی تمام وجوہات درج ہیں اور ان قانونی و ریگولیٹری تقاضوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی تکمیل بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2019 کے تحت لازم ہے انہوں نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے بعد مفصل اور جامع تحقیقاتی رپورٹ بھی جلد جاری کردی جائے گی چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن صوبے بھر میں غیر رجسٹرڈ، غیر معیاری اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تمام صحت سے متعلق اداروں اور نرسریوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا تاکہ بچوں کا تحفظ، عوامی صحت اور ادارہ جاتی نظم و ضبط یقینی بنایا جا سکے۔

