کراچی (اسٹاف رپورٹر)مقامی ہوٹل میں ایک اہم طبی سیمینار منعقد ہوا جس کا عنوان تھا ”دورِ جدید میں طبِ یونانی اور روایتی طب کی اہمیت اور قدرتی طریقوں کا احیا۔” اس تقریب کی صدارت حکیم منصور العزیز (جنرل سیکریٹری، پاکستان طبی کانفرنس، مرکزی) نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر احسن قوی صدیقی صاحب (سی ای او، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن) تھے۔ڈاکٹر احسن قوی صدیقی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تحقیق کی ضرورت ہے اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اس سلسلے میں بھرپور تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن طب اور حکماء کی قدر کرتا ہے اور ان کی پریکٹس کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دے گا، خاص طور پر اگر حجامہ جیسی روایتی طریقوں کے لیے ایس او پیز پر عمل کیا جائے۔مزید برآں،جناب حکیم مختار احمد برکاتی، ممبر قومی طبی کونسل، نے NTCAM 2025 کے ڈرافٹ بل کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین جناب حکیم منصورالعززیز صاحب کی قیادت میں متحد ہیں۔ تمام طبی تنظیمیں اور تمام حکما و شرکاء نے یک زبان ہو کر اس مجوزہ ایکٹ بل کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا۔حکیم محمد منور شیخ صاحب، سابق صدر قومی طبی کونسل اور چیئرمین مصالحتی و قانونی کمیٹی، نے خطاب کرتے ہوئے اطباء کو زور دیا کہ وہ اس وقت اپنے اتحاد کو قائم رکھیں اور قومی طبی کونسل، اپنے اکابرین اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی اطباء فورم پر پورا بھروسہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی طب اور اطباء کے وقار کے لیے جو جدوجہد کر رہی ہے اور کرتی رہے گی، ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔اسی موقع پر وائس پریزیڈنٹ قومی طبی کونسل، حکیم سراج الدین چانڈیو نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اطباء بالکل بے بنیاد باتوں پر یقین نہ کریں۔ طب اور اطباء کے وقار کے لیے اپنے آپ کو قانون کے دائرے میں رکھیں اور متحد رہیں۔ ہم ان کے لیے جو جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں، وہ ایسے کسی بھی قانون کو یکسر مسترد کرتے ہیں جو طب اور طب یونانی کے خلاف ہو۔اسی طرح اس موقع پر بلڈ ٹرانسفیوشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر فرحانہ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اطباء فوری طور پر سند گورنمنٹ، ہیلتھ کیئر کمیشن کے قوانین پر عمل کریں اور ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ ہم طب اور اطباء کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ حاضر ہیں۔ اور صدر قومی طبی کونسل حکیم محمد احمد سلیمی صاحب نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غلط کام کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی ہوگی اور حکماء کو ریگولیٹ کرنے کے لیے طبی کونسل اور ہیلتھ کیئر کمیشن مل کر کام کریں گے۔آخر میں حکیم نسیم احمد قاسمی صاحب نے بھی خطاب کیا اور حکومتِ سندھ سے درخواست کی کہ پبلک پرائیویٹ سیکٹر میں یونانی طرز کے اسپتال قائم کیے جائیں۔”طبیبہ سارہ رحمان، سیکرٹری خواتین ونگ، پاکستان طبی کانفرنس (سندھ) ” نے بہت اچھے طریقے سے پروگرام کو چلایا اور تمام مہمانوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ان کی بہترین پرفارمنس پر انہیں اس موقع پر پاکستان طبی کانفرنس اور قاسمی ایجوکیشنل سوسائٹی پاکستان کی طرف سے شیلڈ سے بھی نوازا گیا۔”آخر میں طبیبہ سائرہ رحمان نے سب کا شکریہ ادا کیا تقریب کے اختتام پر شرکاء میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔

