مٹھی (این این آئی) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایک سازش کے تحت سندھ کی کردار کشی کی جاتی ہے اس جھوٹے بیانیے کا جواب تھرپارکر کی ترقی ہے، ہم پورے سندھ میں اسی طرح محنت کررہے ہیں، ہماری حکومت عوام دوست حکومت ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کے ریگستانی علاقہ پر محیط ضلع تھرپارکر میں این ای ڈی یونیورسٹی سے الحاق شدہ تھر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور اسکول آف ماڈرن سائنسز کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرپارکر کی ترقی پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے، جیسے سندھ سمیت چاروں صوبوں کی ترقی پورے پاکستان کی ترقی کے لیے ناگذیر ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوس سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے این ای ڈی یونیورسٹی سے الحاق شدہ تھر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور اسکول آف ماڈرن سائنسز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو سندھ حکومت کی جانب سے تھرپارکر کے عوام کے لیے ایک تحفہ قرار دیا۔ انہوں نے تھرپارکر کے عوام کی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ غیرمتزلزل وابستگی کو خراج تحسین پیش کیا، ” یہاں کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی سے، شہید محترمہ بینظیر بھٹو سے، قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو سے محبت کرتے ہیں۔ اور جتنی محنت پاکستان پیپلز پارٹی نے، خاص طور پر تھرپارکر کی ترقی کے لیے کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کتنی تھرپارکر کے عوام سے محبت کرتی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تھرپارکر کی ترقی پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے، جیسے صوبہ سندھ کی ترقی اور چاروں صوبوں کی ترقی پورے پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاص ایفرٹ کیا جاتا ہے، خاص مہم چلائی جاتی ہے، جس کے ذریعے نہ صرف تھرپارکر بلکہ پورے صوبے کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ “ایک خاص مقصد، ایک خاص سازش کے تحت، کہ کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ وہ آپ کے صوبے کے حقوق پر ڈاکا ڈال کر آپ کے صوبے کے اختیارات یا وسائل پر قبضہ کریں۔اور اس بہانے سے کہ سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا، چھوٹے صوبے نے کچھ نہیں کیا، اب سارے اختیارات اور سارے وسائل واپس اسلام آباد کو دے دیے جائیں۔” انہوں نے کہا کہ مذکورہ جھوٹے بیانیے کا سب سے بڑا جواب تھرپارکر ہے، کہ کس طریقے سے اٹھارویں ترمیم کے بعد تھرپارکر ترقی کے حوالے تبدیل ہوا ہے، جو اب ساری دنیا کے سامنے ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کوئلہ تھرپارکر کے عوام کا اثاثہ ہے، اور تھرپارکر کے پاس اتنا کوئلہ ہے جتنا سعودی عرب کے پاس تیل ہے۔”مگر ہماری بدقسمتی یہ رہی کہ آپ کو اپنے اس وسائل کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اور جب بھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کوشش کی تو ایک سازش کے تحت ان کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔” انہوں نے کہا کہ تھر کول منصوبے نے نہ صرف تھرپارکر میں معاشی انقلاب برپا کیا بلکہ یہاں سے پیدا کردہ بجلی کی وجہ سے فیصل آباد جیسے صنعتی شہروں کو بھی فائدہ پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر کے کوئلے کا معاشی انقلاب اپنی جگہ، مگر اس کی وجہ سے ہم نے ایک سماجی انقلاب بھی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کبھی نہ ڈسپنسریاں تھیں، نہ بیسک ہیلتھ یونٹس، نہ اسپتال، آج حکومت کی سرمایہ کاری اور معاشی فائدے کی وجہ سے پورے تھرپارکر میں صحت کا ایک نظام قائم کیا گیا ہے۔”ڈسپنسریاں اپنی جگہ، بی ایچ یوز اپنی جگہ، سڑکیں بنیں، اور تھر فانڈیشن قائم کی گئی، جس میں ہم تھرپارکر کے کوئلے سے حاصل ہونے والے منافع کا ایک حصہ ڈالتے ہیں تاکہ یہ فانڈیشن سماجی کام کر سکے۔ اسی تھر فانڈیشن کے تحت اسپتال قائم کیے گئے جو ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں انڈس اسپتال کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے انسٹیٹیوٹ کا قیام تھرپارکر کے عوام خصوصا نوجوانوں کا مطالبہ تھا، جس پر 2019ع سے کام کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ موجدہ حکومت کی مدت ختم ہونے سے پہلے این ای ڈی کے اس کیمپس کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسی طرح پورے سندھ میں محنت کر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت غریب دوست اور عوام دوست حکومت ہے۔ چاہے صحت کا شعبہ ہو یا تعلیم کا، ہم اس صوبے کے عوام کے مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں سندھ میں یونیورسٹیوں کی تعداد دوگنی کی گئی ہے، اور اگر کیمپسز کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد اس سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ “چاہے تعلیمی ادارے ہوں یا صحت کے ادارے، صوبہ سندھ میں یا وفاق میں، جہاں جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کو موقع ملا، ہم نے عملی کام کر کے دکھایا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھرپارکر کے اِس اہم تعلیمی ادارے میں طالبات کی بڑی تعداد میں موجودگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا خواب تھا کہ خواتین کو تعلیم کے مساوی مواقع ملیں۔ مجھے یہ جان کر بھی فخر ہوا کہ گلگت بلتستان سے نوجوان یہاں این ای ڈی کے کیمپس میں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ سندھ کی ترقی کا راستہ صرف اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے، حکومت سندھ نے ان غلط باتوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے تعلیم ہو، صحت ہو، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں بجلی کی پیداوار ہو، بڑے بڑے منصوبے سندھ نے خود کر کے دکھائے ہیں۔ اس موقع پر سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر یونیورسٹیز و بورڈز محمد اسماعیل راہو، صوبائی کابینہ کے دیگر ممبران، اراکانِ اسمبلی، بلدیاتی نمائندے، پارٹی عہدیداران اور معززین علاقہ بھی موجود تھے۔

