کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ وفاقی اداروں کے بعد اب صوبائی اداروں کی جانب سے بھی مختلف ٹیکسز اور نوٹسز کی بھرمار نے تاجروں کے لیے کاروبار کے دروازے بند کرنا شروع کر دیے ہیں، تاجر پہلے ہی بدترین معاشی حالات، مندی اور مارکیٹ میں عدم استحکام کے باعث بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ایسے میں ریلیف فراہم کرنے کے بجائے ان پر انتظامی و ٹیکسز کا مزید بوجھ ڈالنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے، یہ بات انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہی، انہوں نے کہا کہ کاروبار پہلے ہی جمود کا شکار ہے بجلی کے ہوشربا بلوں اور خریداری کی صلاحیت میں کمی نے تاجروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ایسے حالات میں مختلف اداروں کی جانب سے آئے روز کے نوٹسز اور کارروائیاں تاجر برادری میں شدید بے چینی پیدا کر رہی ہیں جس سے کاروباری ماحول متاثر ہو رہا ہے، کاشف حیدری نے مزید کہا کہ چھوٹا اور درمیانہ تاجر اپنے اخراجات پورے کرنے اور ملازمین کی تنخواہیں دینے سے قاصر ہو چکا ہے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو دکانوں کی بندش سے بے روزگاری کا ایسا طوفان آئے گا جس کا بوجھ حکومت کے لیے سنبھالنا مشکل ہوگا، انہوں نے واضح کیا کہ تاجر معیشت کا اہم ستون ہیں حکومت کو چاہیے کہ دباؤ کی پالیسی ترک کر کے مشاورت اور سہولت کاری کا راستہ اپنائے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر غیر ضروری نوٹسز کا سلسلہ فوری طور پر معطل کیا جائے اور تاجروں کے لیے ایک آسان اور قابلِ عمل نظام وضع کیا جائے، ترجمان نے زور دیا کہ اگر تاجروں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو تاجر برادری اپنے معاشی تحفظ کے لیے آئینی و قانونی احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔

