سوراب (این این آئی)واشک اسکینڈل کے بعد سوراب بھی سرکاری مفت ادویات کا عرصے سے جاری بحران پر سوال اٹھنے لگے، تحقیقات کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا، تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے سرکاری مراکزِ صحت میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی مفت ادویات کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ ضلع واشک میں ڈی ایچ او کی جانب سے سرکاری ادویات کی غیرقانونی منتقلی کے دوران گرفتاری کے واقعے کے بعد صوبے کے دیگر اضلاع، خصوصاً سوراب میں بھی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں سرکاری مراکزِ صحت میں طویل عرصے سے بنیادی ادویات ناپید ہیں،ضلع سوراب کے بنیادی مراکزِ صحت اور دیہی مراکزِ صحت سمیت شہر کے سرکاری اسپتالوں میں بخار، انفیکشن، درد اور دیگر عام بیماریوں کی ادویات کئی عرصے سے دستیاب نہیں۔ متاثرہ مریضوں کا کہنا ہے کہ عملہ کی موجودگی کی صورت اسپتالوں میں انہیں صرف نسخہ دیا جاتا ہے جبکہ دوائیں باہر سے خریدنے کا کہا جاتا ہے۔مفت ادویات کی عدم دستیابی نے غریب اور دیہی آبادی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور کم آمدنی والے خاندان مہنگی ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے، جس کے باعث کئی مریض علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مقامی سماجی کارکنوں کے مطابق مذکورہ صورتحال میں لاچار خواتین، بچے اور بزرگ مریض اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب محکمہ صحت کے دستیاب ریکارڈ میں سوراب سمیت دیگر اضلاع کے لیے ادویات کی فراہمی ظاہر کی جاتی رہی ہے، تاہم عملی طور پر اسٹور رومز خالی ہیں۔ اس تضاد نے ادویات کی ترسیل اور تقسیم کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سرکاری ادویات یا تو غیرقانونی طور پر منتقل کی جا رہی ہیں یا نجی مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہیں، واشک میں ڈی ایچ او کی سرکاری ادویات کی غیرقانونی منتقلی کے دوران گرفتاری کے بعد عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کسی ایک ضلع تک محدود نہیں بلکہ صوبے بھر میں سرکاری ادویات کی سپلائی چین میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ شہریوں کے مطابق سوراب میں ادویات کی مسلسل قلت اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے،انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ سوراب میں ادویات کی عدم دستیابی پر محکمہ صحت کے ضلعی حکام کی جانب سے تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ نہ تو قلت کی وجوہات بتائی گئیں اور نہ ہی کسی باضابطہ انکوائری کا اعلان کیا گیا، جس سے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے،سوراب کے عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سوراب سمیت صوبے بھر کے سرکاری مراکزِ صحت میں ادویات کے اسٹاک کا فوری معائنہ کیا جائے، گزشتہ دو برس کے دوران فراہم کی جانے والی ادویات کا مکمل آڈٹ کرایا جائے اور اگر کسی سطح پر غفلت یا بدعنوانی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ صحت کاشعبہ عوام کی زندگی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے اور اس میں کسی قسم کی بدانتظامی ناقابلِ قبول ہے۔ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مایوس عوام کی اضطراب اور محرومیوں میں مزید اِضافہ ہوگا۔

