کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولوی حفیظ اللہ، مولوی محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مدنی، مولانا عبدالبصیر، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد، حاجی نعمت اللہ اچکزئی، رحیم الدین ایڈووکیٹ، مولوی محمد عارف شمشیر، مفتی محمد ابوبکر اور دیگر نے کہا ہے کہ شدید سردی کے باوجود گیس پریشر کی بدترین کمی اور اس کے ساتھ اندھا دھند، من مانے اور ظالمانہ گیس بلوں کا اجرا عوام کے ساتھ کھلا مذاق اور ریاستی ناانصافی ہے۔ کوئٹہ کے شہری لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں جبکہ گیس کمپنی بلا تعطل بھاری بھرکم بل تھما رہی ہے، جو سراسر ظلم، لوٹ مار اور عوام دشمنی کے مترادف ہے۔ گیس کی عدم فراہمی کے باوجود مکمل بل وصول کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ شدید سردی میں بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو اذیت میں مبتلا کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نااہل حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اگر گیس موجود نہیں تو بل کس بات کا وصول کیا جا رہا ہے؟ یہ عوام کے صبر کا امتحان لینے کے مترادف ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ میں گیس پریشر فوری طور پر بحال کیا جائے، غیر منصفانہ اور من گھڑت گیس بلوں کو فی الفور منسوخ کیا جائے، صارفین کو ریلیف فراہم کیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

