امن و امان کا قیام حکومت،ریاستی اداروں کی ذمہ داری،عوام کو انتظامی ناکامیوں کی سزا دینا قابل قبول نہیں،پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں فارم 47 کے ذریعے مسلط کیے گئے نام نہاد وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک حالیہ پریس کانفرنس کے بعد ایک صحافی کے سوال کے جواب میں میں ضلع شیرانی کے خاتمے سے متعلق دیے گئے بیان کو سخت ترین الفاظ میں متعصبانہ، غیر آئینی، غیر جمہوری اور پشتون دشمن قرار دیا گیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ بیان نہ صرف عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ جنوبی پشتونخوا کے عوام کی سیاسی، انتظامی اور جغرافیائی شناخت پر براہِ راست حملہ بھی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نام نہاد وزیراعلیٰ محض اپنے ذاتی اور علاقائی مفادات کے تحت صرف پانچ یونین کونسلوں پر مشتمل اپنے آبائی اور دور افتادہ علاقے بیکڑ کو ضلع بنانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں، حالانکہ یہ علاقہ کسی بھی طرح ضلع بنانے کے مروجہ قانونی، آبادیاتی، انتظامی اور مالی معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ اس کے برعکس ضلع شیرانی ایک تاریخی حیثیت، وسیع رقبے، مستقل آبادی اور واضح جغرافیائی شناخت کا حامل ضلع ہے، جسے ختم کرنے کی بات کرنا کھلی ناانصافی، تعصب اور سیاسی بدنیتی کا ثبوت ہے۔ پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ضلع شیرانی میں امن و امان کے حوالے سے مسائل درپیش ہیں تو امن و امان کا قیام حکومت اور ریاستی اداروں کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ عوام کو انتظامی ناکامیوں کی سزا دینا کسی بھی جمہوری نظام میں قابلِ قبول نہیں۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اور دیگر ضلعی افسران کو ضلع ہیڈکوارٹر میں مستقل طور پر تعینات رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر موجودہ حکومت اس حد تک نااہل ہو چکی ہے کہ وہ اپنے ہی افسران کو ضلع ہیڈکوارٹر میں بٹھانے سے قاصر ہے تو یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے، نہ کہ ضلع کے عوام کا قصور۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ضلع شیرانی کا ہیڈکوارٹر عارضی طور پر مانی خوا منتقل کیا جائے تاکہ انتظامی امور بہتر طریقے سے انجام دیے جا سکیں، مگر پورے ضلع کو ختم کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنانے کے مترادف ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ اگر امن و امان کو جواز بنا کر اضلاع ختم کرنے کی منطق اپنائی جائے تو پھر صوبے کے درجنوں اضلاع، خصوصاً وہ اضلاع جن کے قیام کا آغاز ہی سیاسی مفادات کے تحت کیا گیا تھا، کو بھی ختم کرنا پڑے گا، جو موجودہ حکومت کے دوہرے معیار اور بدنیتی کو بے نقاب کرتا ہے۔ پریس ریلیز میں اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ جنوبی پشتونخوا میں آج بھی کئی ایسے بڑے، گنجان آباد اور وسائل سے مالا مال علاقے موجود ہیں جو ہر لحاظ سے ضلع بننے کے معیار پر پورا اترتے ہیں، مگر انہیں دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی بنیادوں پر غیر موزوں علاقوں کو ضلع بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آخر میں پارٹی نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ضلع شیرانی کے خاتمے کا یہ عوام دشمن، غیر آئینی اور جابرانہ فیصلہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس فیصلے کے خلاف ہر آئینی، سیاسی اور عوامی فورم پر سخت مزاحمت کرے گی، اور اگر حکومت نے اس عوام دشمن پالیسی سے باز نہ آئی تو اس کے خلاف شدید عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری موجودہ نام نہاد حکومت پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں