زیر زمین پانی کی سطح کو مزید گرنے سے بچانے کے لیے سخت اور عملی فیصلے ناگزیر ہیں،کمشنر کوئٹہ

کوئٹہ(این این آئی)کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیرِ صدارت کوئٹہ واٹر سیکیورٹی اینڈ ریسورسز ایکشن پلان کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈویڑنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ظہور احمد، پروجیکٹ ڈائریکٹر کیو ڈی پی رفیق بلوچ، محکمہ واسا، محکمہ ایریگیشن، بیوٹمز، یونیورسٹی آف بلوچستان کے ماہرین، متعلقہ ایکسپرٹس اور انجینیئرز نے شرکت کی۔اجلاس میں کوئٹہ شہر میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے، پانی کے غیر ضروری اور غیر قانونی استعمال کی روک تھام اور مستقبل میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ کوئٹہ میں پانی کی صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند سالوں میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کمشنر کوئٹہ ڈویڑن شاہزیب خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واٹر ایمرجنسی ایکشن پلان پر مؤثر اور فوری عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ٹیوب ویلز، زرعی اور کمرشل مقاصد کے لیے بے دریغ پانی کے استعمال کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے، جو مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو مزید گرنے سے بچانے کے لیے سخت اور عملی فیصلے ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں ایک جامع ایمرجنسی ایکشن پلان مرتب کرنے، نئے پانی کے ذخائر کی تلاش، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب، کار واشز اور دیگر کمرشل یونٹس کو متبادل پانی فراہم کرنے کی پالیسی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں زرعی شعبے میں پانی کے زیادہ استعمال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ چونکہ سب سے زیادہ پانی زراعت اور باغات میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے زرعی زمینوں کے لیے اسپرنکلر اور ڈرپ ایریگیشن سسٹم متعارف کروانا ناگزیر ہے تاکہ کم سے کم پانی کے استعمال سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا کہ زیرِ زمین پانی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ استعمال اور ریچارج کے عمل میں توازن پیدا ہو سکے۔ اس حوالے سے قلیل اور طویل المدتی پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں سروس اسٹیشنز، زرعی استعمال اور دیگر متبادل مقاصد کے لیے پانی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ اگر پانی کے ضیاع کو نہ روکا گیا اور ریچارج پوائنٹس نہ بنایا گیا تو آئندہ پانچ سے دس سال کے دوران کوئٹہ کو پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ گھروں اور سرکاری عمارتوں میں چھوٹے ریچارج پوائنٹس قائم کیے جائیں تاکہ بارش کے پانی کو محفوظ بنا کر زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے واضح اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کریں۔آخر میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون سے جلد از جلد واٹر سیکیورٹی اینڈ ریسورسز ایکشن پلان کو مرتب کریں تاکہ کوئٹہ شہر کو مستقبل کے پانی کے سنگین بحران سے بچایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں