محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں کسی قسم کی بے ضابطگی اور غیر قانونی کام قابل برداشت نہیں،فضل شکور

پشاور(این این آئی)خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان سے منگل کے روز ان کے دفتر میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (پی ایچ ای ڈی) ورکرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ پیر گل علی شاہ مروت نے کی۔ملاقات کے دوران وفد نے صوبائی وزیر کو محکمہ سے متعلق مختلف درپیش مسائل اور مطالبات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں آپریٹر بی پی ایس۔6 کی پوسٹ ختم کی جا چکی ہے جبکہ محکمہ فنانس نے اس پوسٹ کو آپریٹر کم والمین بی پی ایس۔ 3میں کنورٹ کیا ہے، لہٰذا طویل عرصے سے خالی تمام اسامیوں پربی پی ایس۔ 3 میں بھرتیوں کے لیے جنرل آرڈر جاری کیا جائے۔وفد نے مزید مطالبات میں واٹر سپلائی سکیموں کو مؤثر اور کارآمد بنانے کے لیے ٹیوب ویلوں میں آپریٹر کی پوسٹ پر مالکِ زمین کو بھرتی کرنے، تمام کوالیفائیڈ ڈپلومہ ہولڈرز کے لیے سب انجینئر کی پوسٹ پر 8 فیصد کوٹہ مختص کرنے، آپریشنل سٹاف (آپریٹر، چوکیدار اور والمین) کے لیے ڈیوٹی ٹائم کا باقاعدہ تعین، ہر ڈویژن میں تحصیل کی سطح پر سپروائزر کی چار اسامیوں کی منظوری، اور ضم شدہ اضلاع میں واٹر سپلائی سکیموں کو فعال بنانے کے لیے آپریشنل سٹاف کی تعیناتی کے احکامات سمیت دیگر امور شامل تھے۔اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکور خان نے واضح کیا کہ ٹیوب ویلوں میں آپریٹر کی پوسٹ پر تعیناتی کا پہلا حق مالکِ زمین کو حاصل ہوگا اور کسی غیر متعلقہ فرد کو مالکِ زمین پر فوقیت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں کسی قسم کی بے ضابطگی اور غیر قانونی کام قابلِ برداشت نہیں ہے۔صوبائی وزیر نے وفد کو یقین دہانی کرئی کہ ان کے جائز مطالبات کو صوبائی حکومت کی پالیسی کی روشنی میں حل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی اور واٹر سپلائی سکیموں کی بہتری اور ملازمین کے مسائل کے حل کو ترجیح دی جائے گی۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں