اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے سینٹ کو بتایا ہے کہ پنجاب کی جامعات میں بلوچ طلبہ کے داخلوں پر کوئی پابندی نہیں، کوٹہ مکمل بحال ہے، میڈیکل تعلیم ایک پیشہ ورانہ اور حساس شعبہ ہے، کم از کم اہلیت اور نمبرز کی شرط لازم ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔منگل کوسینٹ اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر کی موجودگی میں وزیراعظم آفس سے متعلق بعض امور پر ایوان کی تشویش زیرِ غور آئی جو الحمدللہ حل ہو گئی ہے۔ اس دوران سینیٹر کامران کی جانب سے پنجاب میں بلوچ طلبہ کے داخلوں سے متعلق سوال اٹھایا گیاجس پر سینیٹر پرویز رشید سے ایوان کو بریف کرنے کی درخواست کی گئی۔انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ سینیٹر پرویز رشید کی جانب سے موصول ہونے والی تفصیلی بریفنگ کے مطابق پنجاب کی جامعات میں بلوچ طلبہ کے داخلوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں اور ان کا کوٹہ مکمل طور پر بحال ہے۔وزیرِ قانون نے کہا کہ اس وقت پنجاب کی مختلف سرکاری جامعات میں کل 3850 بلوچ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں نمایاں تعداد پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور دیگر جامعات میں شامل ہے۔ بتایاگیا کہ بعض جامعات میں اس وجہ سے داخلے نہیں ہو سکے کہ متعلقہ کوٹے کے تحت درخواستیں موصول نہیں ہوئیں،اعداد و شمار کے مطابق ان 3850 طلبہ میں سے 58 فیصد میرٹ پر داخل ہوئے ہیں، جن میں 3419 مرد اور 431 خواتین شامل ہیں جبکہ 42 فیصد طلبہ کوٹے کے تحت داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ تمام سرکاری جامعات میں داخلوں کے لیے یکساں پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور کوٹے کے تحت اعلیٰ میرٹ حاصل کرنے والے طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے۔میڈیکل کالجز سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے کہا کہ یہ داخلے یونیورسٹی ٹو یونیورسٹی پالیسی کے تحت ہوتے ہیں، تاہم حکومت کی عمومی ہدایت ہے کہ بلوچ طلبہ کے لیے ان کا کوٹہ برقرار رکھا جائے، میڈیکل تعلیم چونکہ ایک پیشہ ورانہ اور حساس شعبہ ہے، اس لیے کم از کم اہلیت اور نمبرز کی شرط لازم ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے پر مزید رہنمائی یا مداخلت کی ضرورت پیش آئی تو محترمہ نوشہر رحمان نے حکومتِ پنجاب کے ساتھ معاملہ اٹھانے کی پیشکش کی ہے۔وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے تمام صوبے آپس میں بھائی ہیں اور وزیرِاعظم کا بھی یہی مؤقف ہے کہ محدود وسائل کے باوجود باہمی تعاون اور انصاف کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔ پنجاب حکومت بلوچ طلبہ، مرد و خواتین دونوں کو تعلیمی مواقع فراہم کر رہی ہے اور آئندہ بھی اس ضمن میں مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔

