لسبیلہ(بیوروچیف) اوتھل میں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ اور لوکل کمیٹی کے بعض ممبران پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ انہوں نے باہمی ملی بھگت کے ذریعے پنجاب سے تعلق رکھنے والے گورمانی خاندان کو لسبیلہ کا لوکل ڈومیسائل جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چند روز میں ان ڈومیسائلز پر باضابطہ دستخط بھی کر دیے جائیں گے، جس کے بعد یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ گورمانی خاندان کے ایک بھائی کا لوکل ڈومیسائل پہلے ہی غیر قانونی طریقے سے تیار کیا جا چکا ہے، جس پر تاحال کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اس صورتحال نے لسبیلہ کے عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر مقامی افراد کو لوکل جاری کرنا مقامی نوجوانوں کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے، کیونکہ لوکل ڈومیسائل کی بنیاد پر سرکاری ملازمتوں، تعلیمی کوٹہ اور دیگر سہولیات تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس عمل سے لسبیلہ کے مقامی باشندوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔دوسری جانب گورمانی خاندان کا کہنا ہے کہ چونکہ ان کی والدہ کے پاس لوکل ڈومیسائل موجود ہے، اس لیے انہیں بھی لوکل بنانے کا حق حاصل ہے۔ تاہم عوامی حلقوں اور قانونی ماہرین اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ کون سا قانون ہے جس کے تحت والدہ کے لوکل کی بنیاد پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو لسبیلہ کا لوکل جاری کیا جا سکتا ہے، جبکہ وہ مستقل طور پر اس علاقے کے رہائشی بھی نہیں ہیں۔لسبیلہ کے عوامی حلقوں نے چیف سیکریٹری بلوچستان اور کمشنر قلات ڈویژن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گورمانی خاندان کو جاری کیے گئے تمام لوکل کا فوری نوٹس لیا جائے اور اگر یہ غیر قانونی ثابت ہوں تو انہیں فی الفور منسوخ کیا جائے، تاکہ لسبیلہ کے مقامی لوگوں کے ساتھ ہونے والی حق تلفی کو روکا جا سکے۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر بروقت اور شفاف کارروائی نہ کی گئی تو وہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں، کیونکہ لوکل ڈومیسائل جیسے حساس معاملے میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

