کراچی میں آگ سے تباہ ہونے والےگل پلازہ میں سرچ آپریشن کے دوران مزید 30 لاشیں ملی ہیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 61 تک جا پہنچی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق ملبہ ہٹانےکا کام روک دیا گیا ہے، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔
گل پلازہ میں آگ لگنےکے بعد لوگوں نے خود کو بچانےکے لیے دکان میں بندکرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ گل پلازہ کے گراونڈ فلور پر واقع ایک دکان سے متعدد انسانی اعضا ملے ہیں،انسانی اعضا اسپتال منتقل کیے جارہے ہیں۔
ڈی سی ساوتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ میز نائن فلور پر کراکری کی شاپ سے بیس سے پچیس لاشیں ملی ہیں، ملنے والی لاشیں بالکل خراب حالت میں ہیں، لاشوں کی باقیات ریسکیو اہلکاروں کو سرچ آپریشن کے دوران ملی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ میں جانی نقصان کے اضافے پر افسوس کا اظہار کیا اور نئی ملنے والی لاشوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ملبہ ہٹانے کا کام روک کر لاشوں کو منتقل کیا جائے، لاشوں کی شناخت اور منتقلی سمیت لواحقین کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں، انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں لیکن لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
پولیس سرجن کے مطابق آج ملبے سے نکالی گئی مزید باقیات کی جانچ کا عمل بھی جاری ہے تاہم مزید اموات کا اندیشہ ہے۔
قبل ازیں ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں پولیس سرجن نے بتایا تھا کہ مجموعی طور پر 28 لاشیں موصول ہوئیں، ابتدائی طور پر 6 لاشیں مکمل اور قابلِ شناخت تھیں، ایک لاش تنویر نامی شخص کی سی این آئی سی کے ذریعے شناخت ہوئی اور باقی لاشوں کے ڈی این اے سیمپلز سندھ فرانزک ڈی این اے لیب بھجوا دیے گئے۔
ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ گزشتہ رات مزید 3 لاشیں شناخت ہونے کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں، آئندہ ایک دو گھنٹوں میں مزید 3 سے 4 ڈی این اے رپورٹس آنے کی توقع ہے، آگ کی شدت کے باعث ڈی این اے شدید متاثر ہوا، شناخت کا عمل مشکل ہے۔
پولیس سرجن نے مزید بتایا کہ سندھ فرانزک ڈی این اے لیب 24 گھنٹے کام کر رہی ہے، بیشتر لاشیں مکمل نہیں بلکہ ٹکڑوں کی صورت میں موصول ہوئیں اور فریگمنٹری ریمینز سے ڈی این اے حاصل کرنا زیادہ وقت لیتا ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ مل لاشوں کی تعداد صرف 6 سے 7 تھی، مجموعی طور پر 51 ورثا کے ڈی این اے سیمپلز لیے گئے، ورثا کے سیمپلز والدین اور بچوں سے ترجیحی بنیاد پر لیے گئے، والدین یا بچے موجود نہ ہوں تو بہن بھائیوں سے ڈی این اے لیا جاتا ہے۔
ریسکیو 1122، ایدھی، چھیپا
ایدھی حکام کے مطابق گل پلازہ عمارت سے مزید دو لاشوں کے اعضاء سول اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔

