کوئٹہ(این این آئی) اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے ایک ارب روپے (35 لاکھ امریکی ڈالر) کی لاگت سے بلوچستان کے 48 اداروں کو شمسی توانائی سے لیس کر نے کے بعد صوبائی حکومت کے حوالے کردیا۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک تقریب میں یو این ایچ سی آر نے بلوچستان کے اسکولز، جامعات، صحت کے مراکز اور فنی تربیتی کے 48اداروں میں سولرائزیشن کا کام مکمل کرنے کے بعد انتظام صوبائی حکومت کے حوالے کردیا۔تقریب میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، اقوامِ متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ، پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی نمائندہ فلپا کینڈلر، کوئٹہ آفس کے سربراہ ٹیسفائے بیکیلے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔شرکاء کو بتایا گیا کہ صوبے کے وہ اضلاع جہاں مہاجرین کی بڑی تعداد مقیم ہے میں سال 2024–2025 کے دوران عالمی عطیہ دہندگان کینیڈا، جرمنی، کوریا اور نیدرلینڈز کے تعاون سے شمسی توانائی کی تنصیب کی گئی شامل ہیں۔ منصوبے کا مقصد بجلی کی عدم دستیابی، لوڈشیڈنگ اور ڈیزل جنریٹرز پر بڑھتے اخراجات جیسے دیرینہ مسائل کا حل فراہم کرنا ہے۔ان اداروں میں بولان میڈیکل کمپلیکس بھی شامل ہے، جسے یو این ایچ سی آر کے نجی شراکت دار لانگی گرین انرجی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے تعاون سے سولرائز کیا گیا۔تقریب سے خطاب میں محمد یحییٰ نے منصوبے کے مثبت اثرات کو سراہتے ہوئے افغان مہاجرین کی 45 سالہ میزبانی پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ فلپا کینڈلر نے کہا کہ قابلِ اعتماد توانائی عوامی خدمات کے تسلسل اور مہاجرین و میزبان آبادی دونوں کے لیے ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔یو این ایچ سی آر کے مطابق یہ منصوبہ سالانہ تقریباً 20 لاکھ افراد کو مستفید کرے گا اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف قومی و صوبائی اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

