چائلڈ لیبر صرف بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک گورننس چیلنج بھی ہے، رکن این سی آر سی کے رکن

کوئٹہ(این این آئی)قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (این سی آر سی) نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان کے اشتراک سے اور یورپی یونین کے تعاون سے حقوقِ پاکستان فیز ٹو (Huqooq-e-Pakistan II) منصوبے کے تحت بلوچستان میں نجی شعبے میں چائلڈ لیبر کی نگرانی کے حوالے سے صوبائی سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔اس اجلاس میں وفاقی وزارتوں اور اداروں کے نمائندوں کے علاوہ چیمبرز آف کامرس، سول سوسائٹی، مزدور تنظیموں اور کاروباری انجمنوں کے اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ شرکاء نے صوبے میں چائلڈ لیبر کے رجحانات، قوانین پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے فقدان پر تفصیلی غور کیا اور اس مسئلے کے حل کے لیے مستقبل کی حکمتِ عملی پیش کی، جو نیشنل ایکشن پلان برائے بزنس اینڈ ہیومن رائٹس اور جی ایس پی پلس (GSP+) وعدوں سے ہم آہنگ ہو۔مشاورتی اجلاس میں خاص طور پر غیر رسمی شعبوں میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، سپلائی چین میں نجی شعبے کی قانونی پابندیوں کے مؤثر جائزے، اور ایسے سماجی تحفظ کے نظام پر تبادلہ خیال کیا گیا جو چائلڈ لیبر کے خاتمے میں معاون ثابت ہو سکیں۔یہ اجلاس قومی اور صوبائی سطح پر ہونے والی مشاورتی نشستوں کے سلسلے کا حصہ تھا، جن کے نتائج نجی شعبے میں چائلڈ لیبر سے متعلق ایک آئندہ قومی رپورٹ کی تیاری میں شامل کیے جائیں گے۔ این سی آر سی صوبائی شواہد اور اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو یکجا کر کے ایسی قابلِ عمل اور شواہد پر مبنی سفارشات مرتب کرے گا جو قوانین کے مؤثر نفاذ، کاروباری اداروں کی جوابدہی اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے این سی آر سی کے رکن بلوچستان ایڈووکیٹ عبدالحئی نے کہا کہ“چائلڈ لیبر صرف بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک گورننس چیلنج بھی ہے، جو قانون کے نفاذ، احتساب اور سماجی تحفظ کے نظام میں موجود خلا کی عکاسی کرتا ہے۔ چائلڈ لیبر کا خاتمہ نہ صرف اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داری ہے بلکہ ہمارے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک اخلاقی اور آئینی فرض بھی ہے۔”یو این ڈی پی پاکستان کی کنسلٹنٹ زینب مصطفیٰ نے اس موقع پر کہا کہ“چائلڈ لیبر کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بہتر تعاون اور ہم آہنگی ناگزیر ہے، تاکہ ایک جامع اور کثیر شعبہ جاتی حل فراہم کیا جا سکے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ رپورٹ اس شعبے میں کام کرنے والے تمام فریقین کے لیے ایک رہنما دستاویز ثابت ہوگی۔”نیشنل کمیشن برائے حقوقِ اطفال اور یو این ڈی پی نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، محکمہ محنت، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے ساتھ مسلسل تعاون جاری رکھنے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ہر قسم کی چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں