پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک چینی ریستوران میں پیر کو ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی جبکہ عسکریت پسند تنظیم داعش نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
ایک بیان میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت دوحہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں خصوصاً افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ’دہشت گرد‘ تنظیم کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور علاقائی امن و سلامتی کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔
صدر نے اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی۔
صدر نے چینی شہریوں کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا جو بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور اپنی زندگیوں کو لاحق سنگین خطرات کے باوجود افغانستان کی ترقی کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر اسلامک سٹیٹ (داعش) نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چینی ریستوران پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
داعش کی سرگرمیوں کے بارے میں خبریں شائع کرنے والے خبر رساں ادارے اعماق نے ایک بندوق بردار کی تصویر شائع کی اور لکھا کہ اس شخص نے ’… ایک چینی ریسٹورنٹ پر حملہ کیا۔‘
افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کابل کے علاقے شہر نو میں سوموار کو ایک دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
طالبان حکومت کے تحت کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے پوسٹ پر لکھا کہ دھماکہ ایک ’چینی مسلم افغان مشترکہ ریستوران‘ میں ہوا اور اس میں ایک چینی شہری کے علاوہ چھ افغان مارے گئے۔
کابل پولیس ترجمان خالد زدران نے ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ شہرنو کی گل فروشی سٹریٹ میں دھماکہ چینی ریستوران ’چائنیز نوڈل‘ میں ہوا جس میں ایک چینی شہری اور چھ افغان شہری جان سے گئے۔
انہوں نے لکھا کہ ریستوران ایک مسلمان چینی عبدالمجید، ان کی اہلیہ اور افغان شہری عبدالجبار مشترکہ طور پر چلاتے تھے۔
خالد زدران کے مطابق چینی شہری کا تعلق سنک کیانگ صوبے سے ہے اور ریستوران میں مسلمانوں کے لیے خوراک تیار اور بیچی جاتی تھی۔
طالبان کے سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو حصار میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکہ کچن کے قریب ہوا اور دھماکے کی نوعیت ابھی تک معلوم نہیں۔
شہر نو میں کچھ سفارت خانے، کاروباری مراکز اور سرکاری ایجنسیوں کے دفاتر ہیں اور یہ دارالحکومت کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔
طالبان کے زیر کنٹرول نیشنل ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے کچھ دیر قبل کہا ہے کہ دھماکہ ایک ریستوران میں گیس سلنڈر پھٹنے سے ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’کابل شہر کے شہر نو میں گلفروش سٹریٹ میں ایک مقامی ریسٹورنٹ میں گیس سلنڈر کا دھماکہ ملازمین کی لاپرواہی کے باعث ہوا۔
’خوش قسمتی سے کوئی بڑا مالی نقصان نہیں ہوا، صرف ریسٹورنٹ کو سطحی نقصان پہنچا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایمرجنسی نامی تنظیم کے سرجیکل سینٹرمیں دھماکے کے بعد 20 زخمی افراد کو لایا گیا۔
ان میں سات افراد پہنچنے پر جان کی بازی ہار چکے تھے۔
روئٹرز کے مطابق سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں سڑک کے باہر ملبہ بکھرا ہوا اور ہوٹل کی عمارت میں بڑے سوراخ سے دھواں نکلتا دکھایا گیا۔
دیجان پینک، انسانی ہمدردی گروپ ایمرجنسی کے افغانستان میں کنٹری ڈائریکٹر نے ایک بیان میں کہا ’زخمیوں میں چار عورتیں اور ایک بچہ شامل ہیں … بدقسمتی سے، ہسپتال پہنچنے پر سات لوگ پہلے ہی مر چکے تھے۔‘
طالبان نے 2021 میں جنگ زدہ افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ وہ امن بحال کریں گے، لیکن بم حملے جاری ہیں، جن میں سے کئی کی ذمہ داری عسکریت پسند داعش تنظیم کی مقامی شاخ نے قبول کی۔

