بلوچستان میں پولیو کا وائرس موجود،موثر حکمت عملی کے باعث 15 ماہ سے پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، عائشہ رضاء

کوئٹہ(این این آئی) وزیراعظم کی فوکل پرسن فار پولیو سینیٹر عائشہ رضا نے کہاہے کہ بلوچستان میں پولیو کا وائرس موجود ہے موثر حکمت عملی کے باعث گزشتہ 15 ماہ سے صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، والدین 2فروری سے شروع ہونی والی انسداد پولیو مہم میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو قطرے ضرور پلائیں۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں پولیو ورکرز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی،عائشہ رضا کا کہنا تھاکہ ورکرز کی ہمت کو سلام پیش کرتی ہوں،خواتین ورکرز مشکل حالات میں گھر سے نکل کر گھر گھر جاکر ویکسین کرتی ہیں ورکرز کی کوششوں سے پولیو کے وائرس کا خاتمہ کرسکتے ہیں اس سلسلے میں غفلت برتنے والے افراد کا احتساب بھی کیاگیاہے او ڈی اے کی فنڈنگ کم ہوئی ہے مگر فنڈنگ پر کٹ کو پولیو پروگرام پر اثرانداز نہیں ہونے دیں گے ورکر کی سیلریز کو بڑھانے کیلئے اقدام کررہے ہیں، عائشہ رضا کا کہنا تھاکہ پولیو کے خاتمے کے لئے ایک انتہائی اہم علاقہ ہے، اور میرا یہ کوئٹہ کا دورہ وزیر اعظم کے اس واضح پیغام کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچستان قومی سطح پر ہماری اولین ترجیح ہے،بلوچستان میں مضبوط اور مسلسل پیش رفت کے بغیر پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں،میں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے ملاقات کی اور بلوچستان میں پولیو کے خاتمے کے لئے وفاقی حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی،صوبائی حکومت کے عزم کو سراہتی ہوں، جس نے انسداد پولیو کی کوششوں کو مسلسل آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے،فرنٹ لائن ورکرز پاکستان انسداد پولیو پروگرام کی اصل طاقت ہیں,عائشہ رضا نے بتایا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ورکرز انسداد پولیو پروگرام سے وابستہ ہیں مشکل حالات کے باوجود ورکر کی محنت اور لگن ہمارے پولیو کے خلاف جاری اقدامات کی اصل طاقت ہیں،خواتین فرنٹ لائن ورکرز پر بچے تک رسائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پولیو ویکسین کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں،جی پی ای آئی کی جینڈر چیمپئن کے طور پر، میں خواتین کے لئے محفوظ، باعزت اور معاون کام کے ماحول کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہوں،اپنے دورے کے دوران میں نے خواتین فرنٹ لائن ورکرز کے ساتھ براہ راست بات چیت کی،یہاں ملاقات کا مقصد ان کی رائے جاننا، اُن سے سیکھنا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہیتاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے سکیں،خواتین ورکرز کو قومی سطح پر پالیسی سازی اور فیصلوں میں براہ راست شامل کیا جا سکے، تاکہ ان کے کام سے متعلق مسائل مؤثر طریقے سے حل کیے جا سکیں،انسداد پولیو پروگرام سے وابستہ خواتین، چاہے وہ فرنٹ لائن ورکرز ہوں یا کسی بھی سطح پر خدمات انجام دے رہی ہوں، ان کی معاونت کرنا اور ان کا حوصلہ بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں