کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان طبی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (پاکستان)کے تحت ایکٹ NTCAM-2025کے خلاف ایک مزمتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا اجلاس کی صدارت کنوینر (سندھ) آل پاکستان طبی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (پاکستان) حکیم نسیم احمد قاسمی نے کی اور مجوزہ ایکٹ کے نفاذ سے پیدا ہونے والے مسائل کا اجاگر کیا جبکہ حکیم آغا حضرت جی، ممبر نیشنل کونسل فار طب اسلام حکیم مختار احمد برکاتی، حکیم نعمان انصاری، حکیم محمد معظم شیخ،طبیبہ صائمہ نسیم طبیبہ، سائرہ رحمان، حکیم سعید احمد قاسمی، حکیم محمد ابرار دہلوی، ارشاد دہلوی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اس موقع پر NTCAM-2025 کے تحت نافذ کیے جانے والے اقدامات کے خلاف ایک متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ پالیسیوں کے باعث عوام، مریضوں، والدین، طلبہ و طالبات اور طبی شعبے سے وابستہ افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں، جو عوامی مفاد اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔قرارداد میں اس امر پر زور دیا گیا کہ عوامی اعتماد (Public Trust) کا تحفظ ریاست اور متعلقہ اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم شفافیت کے فقدان اور عوامی مشاورت کے بغیر فیصلے اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ طبی اور تعلیمی شعبوں میں غیر ضروری پابندیاں مریضوں کے علاج اور طلبہ کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام فیصلے عالمی ادار? صحت (WHO) کے اصولوں، Malta Conference 2009 اور دیگر بین الاقوامی معیارات کے مطابق کیے جائیں، جبکہ اختیارات (Powers) کا استعمال آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی بدانتظامی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا عوام کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ قرارداد کے ذریعے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ NTCAM-2025 کے تحت کیے گئے متنازع اقدامات کا فوری ازسرِنو جائزہ لیا جائے، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے اور عوامی مفاد، مریضوں کے حقوق اور تعلیمی معیار کو اولین ترجیح دی جائے۔آخر میں شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

