کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے لیے حالیہ دنوں میں غزہ پیس بورڈ کے قیام کی تجویز عالمی سفارتی حلقوں میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اس مجوزہ بورڈ کا مقصد نہ صرف فوری جنگ بندی کو یقینی بنانا ہے بلکہ انسانی امداد، تعمیر نو اور فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مربوط فریم ورک تیار کرنا بھی ہے ایسے وقت میں جب خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہے، کسی بین الاقوامی اور نسبتاً متوازن پلیٹ فارم کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اس تناظر میں پاکستان کی شمولیت کو ایک اہم اور علامتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی کاز کا مستقل، واضح اور غیر مشروط حامی رہا ہے اور اس نے اقوامِ متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان کی شمولیت غزہ پیس بورڈ کو اخلاقی ساکھ، مسلم دنیا کی نمائندگی اور سفارتی توازن فراہم کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں کئی بڑی طاقتیں جانبداری کے الزامات کی زد میں ہیں تاہم، اس بورڈ کی کامیابی کے امکانات کئی عوامل سے مشروط ہیں سب سے بڑی رکاوٹ طاقت کے عدم توازن، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کا رویہ، اور زمینی حقائق ہیں اگر بورڈ محض ایک علامتی فورم بن کر رہ گیا اور اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے مؤثر دباؤ کا نظام نہ بنایا گیا تو اس کی افادیت محدود رہے گی دوسری جانب، اگر پاکستان جیسے ممالک فعال سفارتی کردار ادا کریں، علاقائی طاقتوں کو اعتماد میں لیا جائے اور انسانی بنیادوں پر متفقہ لائحہ عمل اپنایا جائے تو یہ بورڈ غزہ میں پائیدار امن کی جانب ایک سنجیدہ قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

