پسنی: چربندن کے ساحل پر ٹرالر مافیا کا راج، مقامی ماہی گیر فاقہ کشی پر مجبور، حق دو تحریک کے کونسلران پرعوامی عدم اعتماد

پسنی (رپورٹر) پسنی کے نواحی علاقے چربندن میں سمندری شکار کو چند عناصر کی جانب سے متنازعہ بنائے جانے اور ٹرالر مافیا کی دن دیہاڑے غنڈہ گردی کے خلاف مقامی ماہی گیروں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ان کے قدیمی روزگار پر قدغن لگائی جا رہی ہے، تو دوسری طرف بڑے پیمانے پر غیر قانونی ٹرالنگ کے ذریعے آبی حیات کی نسل کشی جاری ہے۔
چربندن کے ماہی گیروں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ پورے ضلع گوادر میں کہیں بھی سمندری روزگار پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن صرف چربندن کے غریب ماہی گیروں کو نشانہ بنا کر ان کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پسنی کے متنازعہ سمندری روزگار کے مسائل کو زبردستی ہم پر کیوں مسلط کیا جا رہا ہے؟
ہمارے روایتی شکار پر پابندی لگا کر ہمیں بے روزگاری کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔
چربندن کے ماہیگیروں نے کہا کہ ہم نے حق دو تحریک چربندن کے کونسلران، جن سے عوام نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔
اس سنگین صورتحال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ عوامی توقعات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے تحریک کے منتخب نمائندے علاقے میں اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ کونسلران ماہی گیروں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
گزشتہ روز چربندن کے ساحل پر درجنوں غیر قانونی ٹرالرز کی موجودگی پر ماہی گیروں نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ چربندن کے وٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پر وائس میسجز کے ذریعے اس کھلی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہی گیروں نے الزام عائد کیا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز پسنی غیر قانونی ٹرالنگ کو روکنے کے بجائے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ٹرالر مافیا سمندری حیات کو بے دردی سے تلف کر رہا ہے، جس سے مستقبل میں مچھلیوں کی نسل ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
چربندن کے ماہی گیروں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر فشریز برکت رند سے مطالبہ کیا ہے کہ پسنی فشریز کے افسران کی مبینہ غفلت اور غیر قانونی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرالر مافیا کا خاتمہ کر کے مقامی ماہی گیروں کو ان کا قدیمی حقِ روزگار فراہم کیا جائے تاکہ علاقے میں پھیلی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں