تربت: شاہنواز گل رند کے اغواء کے خلاف ہزاروں افراد کی احتجاجی ریلی، فوری بازیابی کا مطالبہ

تربت (نمائندہ رھبر) شاہنواز گل رند کے اغواء اور رہائی کے بدلے 60 کروڑ روپے رقم طلب کئے جانے کیخلاف ضلع کیچ کے ہزاروں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ آل پارٹیز مکران کی کال پر تربت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ سینکڑوں خواتین کی شمولیت نے ریلی کو مزید مؤثر بنا دیا۔ ریلی کی قیادت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور بلوچستان کے سابق وزیرِاعلیٰ ، ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ اور آل پارٹیز مکران کے کنوینئر ،نواب شمبئے زئی کررہے تھے۔ احتجاجی ریلی میں گوادر اور پنجگور سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے شاہنواز گل رند کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا اور واقعے کو علاقے کے امن و امان اور حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کا اغواء اور تاوان طلب کرنا ناقابلِ برداشت ہے اور ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں یہاں کے باشعور عوام اور سیاسی جماعتوں کو اشتعال دینے کی سنگین غلطی بند کیاجائے اگر حکومت و اداروں سے مطالبہ کرنا ترک کردیا تو بہت برا ہوگا۔ واضح رہے کہ نیشنل اسپتال تربت کے پارٹنر مالک شاہنواز گل رند ولد گل جان رند کو یکم دسمبر کو تربت سے مسلح افراد نے اغواء کیا تھا جبکہ اغواء کاروں کی جانب سے اہلِ خانہ سے 60 کروڑ روپے تاوان طلب کیئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ شاہنواز گل رند کی 56 روز سے عدم بازیابی پر اہلِخانہ سمیت سیاسی ، کاروباری اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ آل پارٹیز مکران نے واقعے کے خلاف مزید دباؤ بڑھانے کیلئے 28 جنوری کو پورے مکران میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال بھی دے رکھی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں