بلوچستان کا دارالخلافہ ہونے کے باوجود شدید سردی میں گیس، بجلی کی سہولت سے محروم

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ کوئٹہ بلوچستان کا دارالخلافہ ہونے کے باوجود شدید سردی میں گیس اور بجلی کی سہولت سے محروم ہے گیس اور بجلی کی غیراعلانیہ اورطویل لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے،حکمران عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ کوئٹہ شہر اور دیگر سرد علاقوں میں درجہ حرارت منفی 8سے منفی 12تک گرچکا ہے شدید سردی سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے رہی سہی کسر گیس پریشر میں کمی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے پوری کر کے رکھ دی ہے دوسری طرف اکثرعلاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی جاری ہے جس سے لوگوں کی قیمتی گھریلو اشیاء جل گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہرمیں گیس پریشر میں کمی اورباربار کی لوڈشیڈنگ کے باعث آئے روز حادثات کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں لیکن سوئی سدرن گیس کمپنی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ شدید سردی میں گیس پریشر میں کمی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث بوڑھے،بچے اور عورتیں بیمار پڑ گئی ہیں جبکہ گھریلو خواتین کو کھانا پکانے میں بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے اور لوگ اس شدید سردی میں لکڑی جلاکر گزارا کرنے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری طرف سوئی سدرن گیس کمپنی کی طرف سے لوگوں کوبھاری بل بھیجے جارہے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوانوں میں بیٹھے حکمران اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی عوام کے مسائل حل کرانے کی بجائے اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں جنہیں عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا تو عوام کے ہاتھ اور حکمرانوں وارکان قو می و صوبائی اسمبلی کے گریبان ہونگے اورعوام کے غیض و غضب سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔لالہ یوسف خلجی نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ سے بھی اپیل کی کہ وہ کوئٹہ شہر میں گیس اور بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی کا نوٹس لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں