عوام دشمن عناصر اپنے مذموم ایجنڈے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ میر علی حسن زہری

حب (رپورٹر ) سینئر صوبائی نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان وصوبائی وزیر زراعت و کوآپریٹو میر علی حسن زہری نے اپنے دوٹوک، مدلل اور سخت بیان میں کہا ہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی نے ضلع حب اور اس کے گردونواح میں کئی دہائیوں تک ریاست کے اندر ریاست قائم کر کے عوام کو پچاس سال پیچھے دھکیلاجس کا خمیازہ حب کے عوام کو بھگتنا پڑا لیکن اب وقت بدل گیا ہے، اندھیروں میں گھرا دور اب ختم ہو چکا ہے اور خوشحالی و ترقی کا نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام باشعور ہو چکے ہیں اور اسلم بھوتانی جیسے مفاد پرست اور عوام دشمن عناصر کے اصل چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں اور اب کسی بھی پروپیگنڈہ کے ذریعے اپنے کسی بھی منفی اور عوام دشمن منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔میر علی حسن زہری نے کہا کہ اسلم بھوتانی اب ایک سیاسی یتیم ہو چکے ہیں جو ہمیشہ ذاتی مفادات، غیر قانونی سرگرمیوں اور کالے دھن کے گرد گھومتا رہا۔ آج وہ خود کو عوام کا ہمدرد ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے مگر حب اور دریجی کے عوام اسے بخوبی جان چکے ہیں اور دوبارہ اس کے جھانسے میں آنے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلم بھوتانی کی عادت بن چکی ہے کہ وہ روزانہ عوامی منصوبوں، ترقیاتی اسکیموں، روزگار کے مواقع اور فلاحی اقدامات کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرتا ہے کیونکہ اسے سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہے کہ آج حب میں حقیقی معنوں میں ترقی ہو رہی ہے اور عوام کو ان کا حق مل رہا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اسمبلی فلور پر خود اسلم بھوتانی نے اعتراف کیا کہ اسے اربوں روپے کے فنڈز ملے اسی طرح سابق رکن بلوچستان اسمبلی صالح بھوتانی کو بھی ہر دور میں اربوں روپے دیے گئے مگر وہ سب خوردبرد ہو گئے۔آج حب اور دریجی کے عوام سوال کر رہے ہیں کہ وہ اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے؟ نہ کوئی صنعت نظر آئی، نہ پائیدار روزگاراور نہ ہی عوام کی زندگی میں کوئی حقیقی بہتری آئی۔میر علی حسن زہری نے کہا کہ بھوتانی گروپ نے دریجی سمیت پورے ضلع حب میں غیر قانونی شکار کو باقاعدہ کاروبار بنا رکھا تھا اور اس مد میں اربوں روپے کمائے جبکہ لکڑی، منشیات، چھالیہ اور اسمگل شدہ ڈیزل جیسے مکروہ دھندوں سے بھی خطیر آمدن حاصل کی گئی۔ ایسے عناصر عوام کے خیرخواہ کبھی نہ تھے اور نہ ہوں گے بلکہ عوام کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع حب میں غریب عوام کے ایک روزگار لکڑیوں تک پر بھوتانی گروپ کی اجارہ داری قائم رہی جس کے باعث سینکڑوں خاندان معاشی طور پر تباہ ہوئے۔ آج وہی عناصر عوامی ہمدردی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں جو عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔وزیر زراعت نے کہا کہ اسلم بھوتانی نے ماضی میں ریاستی اداروں کو کمزور کرنے، افسران کو دباؤ میں لانے اور نظام کو یرغمال بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ آج بھی وہ مختلف سرکاری دفاتر اور اداروں میں جا کر ترقیاتی منصوبوں کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے تاکہ عوامی فلاح کے اقدامات کو سبوتاڑ کیا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ اسلم بھوتانی پچاس سال کا حساب دے، میں اپنے دو سال کا حساب عوام کے سامنے رکھنے کرنے کے لیے تیار ہوں بلکہ ہمارا کام تو سب کو نظر آ بھی رہا ہے۔ ہم نے عوام کو بھوتانی برادران کے 40 سال سے زائد تاریک عرصے پر مشتمل محرومیوں سے نجات دلائی ہے جس سے آج حب کے عوام مطمئن اور خوش ہیں۔ حب پولیس کو مکمل طور پر غیر سیاسی بنا دیا گیا ہے۔میر علی حسن زہری نے کہا کہ آج حب کے کسی بھی سرکاری دفتر میں بھتہ گیری نہیں ہو رہی کیونکہ قانون کی عملداری قائم کی جا چکی ہے۔دو سال میں ہمارے ترقیاتی عمل نے اس کے جھوٹے بیانیے کو دفن کر دیا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ آج اسلم بھوتانی مختلف سیاستدانوں کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے اور وزیراعظم کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے سفارشیں ڈھونڈ رہا ہے، کیونکہ وہ جان چکا ہے کہ اس کا سیاسی مستقبل ختم ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلم بھوتانی اس حد تک گر چکا ہے کہ اس نے سیکیورٹی اداروں کی دفاعی ضروریات کے لیے مختص زمین پر بھی پروپیگنڈا کیا اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، جو صرف عوام دشمنی نہیں بلکہ ملک دشمنی کے مترادف ہے۔میر علی حسن زہری نے آخر میں کہا کہ ہم نے حب میں ترقی اور خوشحالی کا جو سفر شروع کیا ہے اسے کوئی سازش کوئی پروپیگنڈا اور کوئی عوام دشمن کردار نہیں روک سکتا۔ ہم عوامی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دے رہے ہیں اور عوام کے ایک ایک روپے کا حساب لیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں