کراچی (اسٹاف رپورٹر) اندھیر نگری چوپٹ راج کی مثال بلدیہ کراچی ہے جہاں کرپشن قانون اور اقرباء پروری کاراج ہے۔ فائر بریگیڈ کے ان ٹرینڈ اسٹاف اور نااہلی گل پلازہ جیسے سانحہ کے بعد بھی کسی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔مئیر کراچی کی اپنی سیٹ خطرے میں ہے لیکن اپنے دست راست اٖفضل زیدی کے کرپشن سے بھرپور اقدامات کی بجا آوری میں وہ اب بھی پیش پیش ہیں۔ چیف فائر افسرہمایوں خان جو فنی تربیت اور جدید فائر ٹینڈرز کے استعمال سے بھے واقف نہیں انہیں انیس گریڈ میں جاتے جاتے افضل زیدی ترقی دے گئے جو کروڑوں روپے ترقی اور تعیناتی کی مد میں ہمایوں خان نے دیئے تھے اسکی وصولی کرلی۔ تین سو سے زائد گھوسٹ ورکرز کے چیف نے ڈرائیور رحیم کو پیپلز پارٹی سے وابستگی پر بیس الکھ رشوت لے کر پانچ فائر اسٹیشن کا انچارج، ظفر کو تین فائر اسٹیشن کا انچارج بنا دیا۔ہمایوں خان نے ایم کیو ایم چھوڑ کر پیپلز آفیسرز ایسوی ایشن جوائن کی اور اسلم سموں کے ساتھ ملکر ڈی پی سی تھری کرائی جس میں ایک کروڑ کی رشوت لی گئی، دو سو افراد پرانی تاریخوں میں تقرر کرائے۔ جسکے کروڑوں روپے سیف عباس، ہمایوں خان، اسلم سموں، معظم قریشی، اور افضل زیدی لے کر چمپت ہوگئے۔ مسرت علی خان جنکی ریٹائرمنٹ میں چند دن باقی ہیں بھاری رشوت وصولی کرکے انٹریزکر چکے ہیں اس سے قبل جنیدرضا ڈرائیور کو بھی ماروائے قانون سولہ گریڈ دیا گیا۔ رحیم ڈرائیور کو اہم ترین فائر اسٹیشن۔سائٹ۔ لیاری۔ بلدیہ ٹاؤن خاس طور پر شامل ہیں جبکہ ڈپٹی چیف فائر آفیسر، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن اور اچھی ٹیم ہونے کے باوجود رحیم پر نوازشات کرپشن کی پزیرائی اور اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے ہے۔ ہمایوں خان کے خلاف جلد ایکشن ہونے کی اطلاعات کے بعد افضل زیدی سیف عباس نے فوری ترقی کے آرڈر جاری کرادیئے۔ ظفر خان کو تین اسٹیشن اور ہمایوں خان نے اپنا کوآرڈی نیٹر اور پی آر او بھی بنایا ہے۔ جو فائر اسٹیشن پر جاتے تک نہیں۔انسانی جانوں کو غیر تربیت یافتہ افراد کے حوالے کرنے پر ایکشن کے بجائے نوزشات پر مئیر پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ظفر خان کے سالے منہاج کو دو اسٹیشن دیئے گئے ہیں۔عارف منصوری کو دو اسٹیشن دیئے گئے ہیں۔فخر کے پاس لانڈھی کے علاوہ کئی جگہوں کا بھی چارج ہے جو زبانی دیا گیا ہے۔ 5افراد نے فائر بریگیڈ کو ہائی جیک کرلیا ہے۔ سب سے زیادی نفری فائر بریگیڈ کے پاس ہے لیکن ویزا سسٹم پر تین سو سے زائد افراد ڈیوٹی پر نہیں آتے۔ لاکھوں روپے کی کمائی کو میونسپل کمشنر افضل زیدی کو حصہ جاتا تھا اور وہ ہی ڈپارٹمنٹ پر حاوی تھے اب سمیرا حسن کو بھی افضل زیدی بریفنگ دے کر گئے ہیں۔ وردی جو سردی اور گرمی میں دی جاتی ہے صرف ایک وردی دی گئی اس میں بھی 30فیصد کمیشن میونسپل کمشنر کو دیا گیا۔ چارج دونوں وردیوں کے کئے جا چکے ہیں پانچ کے ٹولے نے رقم آپس میں بانٹ لی۔ نا اہل اور غیر تکنیکی عملے کی موجودگی میں گل پلازہ جیسے مذید سانحات کا خطرہ موجود ہے۔ میڈیا نے بھی بتایا کہ فائر بریگیڈ عملے کے پاس وسائل اور آلات نہیں تھے جبکہ گرمی کی وردی سردی میں دی گئی۔ فائر بریگیڈ کرپشن پر افضل زیدی، ہمایوں خان، سیف عباس اور تمام ذمہ داران کے خلاف فوری کاروائی کی ضرورت ہے جبکہ سانحہ گل پلازہ کی انکوائری شفاف ہوتو بڑے بڑے بت گر جائیں گے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے میئر، چیف فائر افسر، سیکورٹی لیپس اور دیگر عوامل سے آگاہ کیا ہے۔ جبکہ میئر کو پی پی پی کی اعلی قیادت نے فارغ کرنے کی سفارش کردی ہے جبکہ ناصر شاہ وزیر بلدیات کی جانب سے بھی کے ایم سی میں بڑے آپریشن کی تیاریوں کی اطلاعات ہیں اور فائر بریگیڈ میں بڑے پیمانے پر ایکشن ہوگا۔ جبکہ افضل زیدی کو وفاق واپس نہیں کیا گیا تاکہ انکے خلاف میگا کرپشن انکوائری ہو سکے۔

