پیر ابوبکر آغا جان کا انتقال دینی روحانی، سماجی اور عوامی حلقوں کا ناقابل تلافی نقصان ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ معروف دینی و روحانی شخصیت پیر ابوبکر آغا جان کا انتقال دینی روحانی، سماجی اور عوامی حلقوں کا ناقابل تلافی نقصان ہے پیر صاحب 85 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ پیر ابوبکر آغا جان کا شمار خطے کی ان ممتاز روحانی شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، عشقِ رسول ؐ کے فروغ اور عوامی اصلاح کے لیے وقف کیے رکھی۔ پیر صاحب چھ دہائیوں سے عید میلاد النبی ؐکے عظیم الشان اجتماعات کا اہتمام فرما رہے تھے، جن میں ملک بھر کے علاوہ افغانستان سے بھی لاکھوں عقیدت مند شرکت کرتے۔ ان کے مریدین اور عقیدت مندوں کی تعداد لاکھوں میں تھی، جبکہ افغانستان میں بھی ان کا وسیع روحانی حلقہ موجود تھا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پیر ابوبکر آغا جان نے سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے موقع پر باطل قوتوں کے خلاف اہم اور مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف مظلوم افغان عوام کی اخلاقی و روحانی مدد کی بلکہ دینی قیادت کے طور پر اتحاد، صبر اور مزاحمت کا پیغام دیا مرحوم، عظیم دینی شخصیت مولانا ابوالخیر کے بڑے پوتے اور معروف عالمِ دین مولانا ابو سعد سلام کے فرزند تھے حضرت صاحب حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے. ان کے آباؤ اجداد 1888 میں دہلی سے اس علاقے کو روحانی تعلیم سے منور کرنے کیلیے تشریف لائے ان کا خاندان علم، تقویٰ اور دین کی خدمت سے جڑا ہوا تھا، جس کی جھلک ان کی پوری زندگی میں نمایاں رہی۔ ان کے انتقال پر علماو مشائخ، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام الناس نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں