کوٸٹہ (پ ر) بلوچستان کی مشہور و معروف بزرگ ہستی و جامعہ غوثیہ رضویہ ڈیرہ مراد جمالی کے بانی و مہتمم شیخ الحدیث و التفسیر حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی محمد حیات القادری رحمتہ اللہ علیہ کے سالانہ عرس کے موقع پر جامعہ غوثیہ جیلانیہ شکار پور کے مہتمم شیر اہلسنت استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شفیق قادری، جامعہ غوثیہ رضویہ ڈیرہ مراد جمالی کے مہتمم فخراہلسنت حضرت علامہ مولانا صاحبزادہ مفتی محمد اقبال حیات القادری ودیگر علماء و مشاٸخ اور قاٸدین اہلسنت نے خطاب کرتے ہوٸے کہا کہ الحاج مفتی محمد حیات القادری کی دینی و اصلاحی گرانقدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جاٸے گا ملک بھر کی طرح بلوچستان کے طول و عرض میں بھی دین اسلام کی خدمات کو عام کرنے کیلٸے قرآن و سنت کی روشنی پھیلاٸی بلوچستان اور سندھ میں جامعات کا جال بچھاکر امت مسلمہ کو جید علماء و مفتی فراہم کیٸے جو آج بھی دین اسلام کیلٸے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں حضرت قبلہ الحاج مفتی محمد حیات القادری رحمتہ اللہ علیہ 1951ء میں بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کے والد محترم حضرت مولانا نور محمد قادری رحمتہ اللہ علیہ خود بھی اہلِ علم و تقویٰ میں شمار ہوتے تھے اسی پاکیزہ ماحول میں آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت ہوئی ناظرہ قرآن اور ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی جس نے آپ کی زندگی کی بنیاد تقویٰ، ادب اور دینی غیرت پر رکھ دی ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے فارسی اور درسی کتب مختلف جید علماء سے پڑھیں گلستان، بوستان اور دیگر اخلاقی و ادبی کتب نے آپ کے مزاج میں شائستگی اور گفتگو میں مٹھاس پیدا کی مگر آپ کی علمی پیاس ابھی بجھی نہ تھی بالآخر آپ دارالعلوم غوثیہ رضویہ سکھر پہنچے وہی درسگاہ جس نے آپ کی شخصیت کو علمی اور روحانی دونوں اعتبار سے جِلا بخشی وہاں آپ نے مفتی اعظم پاکستان حضرت قبلہ مفتی محمد حسین قادری رحمۃ اللہ علیہ سمیت کئی نامور اساتذہ کرام سے درسِ نظامی مکمل کیا تخصص کیا اور دستارِ فضیلت حاصل کی دورانِ تعلیم ہی آپ کو امامت و خطابت کی ذمہ داری دے دی گئی جو اس بات کی دلیل تھی کہ اساتذہ کو آپ کی علمی پختگی اور عملی اہلیت پر مکمل اعتماد تھا سن 1975ء آپ کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا اپنے مرشد کے حکم پر آپ ڈیرہ مراد جمالی پہنچے یہ وہ وقت تھا جب اس علاقے میں منظم دینی تعلیم کا بہت بڑا فقدان تھا آپ نے ہمت، اخلاص اور توکل کے ساتھ جامعہ غوثیہ رضویہ ڈیرہ مراد جمالی کی بنیاد رکھی یہ ادارہ بعد میں بلوچستان میں اہلِ سنت کی ایک مضبوط علمی درسگاہ بن گیا رہنماٶں نے کہا کہ الحاج مفتی محمد حیات القادری رحمتہ اللہ علیہ نے بلوچستان کے قدیم شہر ڈیرہ مراد جمالی میں جامعہ غوثیہ رضویہ کی بنیاد رکھی جس سے ہزاروں نوجوانوں نے استفادہ حاصل کیا اور آج ملک و قوم اور دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں اہم عہدوں پر فاٸض ہیں ان بزرگان دین نے ہمیشہ امن و محبت، بھاٸی چارے اور اتحاد و یکجہتی کا درس دیکر اصلاح امت میں اہم کردار ادا کیا۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں کہیں اہلِ سنت کی مساجد آباد ہیں، وہاں کسی نہ کسی شاگردِ الحاج مفتی محمد حیات القادری رحمۃ اللہ علیہ کی محنت شامل ہے رہنماٶں نے مزید کہا کہ مفتی اعظم بلوچستان شیخ الحدیث و التفسیر، استاذ العلماء، حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی محمد حیات القادری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی محض ایک عالمِ دین کی زندگی نہیں تھی بلکہ ایک مکمل روحانی، علمی اور سماجی تحریک تھی ایک ایسا چراغ جو خود بھی جلتا رہا اور دوسروں کو بھی روشنی دیتا رہا آپ کی روحانیت بھی آپ کے علم کی طرح گہری تھی درودِ پاک آپ کا دائمی وظیفہ تھا دلائل الخیرات اور حزب البحر کا ورد زندگی بھر جاری رکھا۔ آپ نے چار حج اور چار عمرے ادا کیے حرمین شریفین سے آپ کی قلبی وابستگی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ واپسی پر بھی آپ کی آنکھیں نم اور زبان درود سے تر رہتی مگر اصل عظمت صرف عبادات میں نہیں، بلکہ بندوں کے ساتھ حسنِ سلوک میں ظاہر ہوتی ہے آپ اپنی مثال آپ تھے غریبوں کی مدد، بیواؤں کی کفالت، یتیم بچیوں کی شادیوں میں خفیہ تعاون یہ سب آپکے معمولات تھے کٸی گھرانے آج بھی آپ کو دعاؤں میں یاد کرتے ہیں مگر دنیا کو کبھی خبر نہ ہونے دی کہ کس کے دروازے پر کون سا فرشتہ آیا تھا رہنماٶں کا کہنا تھا کہ دینی و ملی میدان میں بھی آپ کی خدمات نمایاں رہیں جمعیت علمائے پاکستان، جماعت اہلسنت پاکستان، تنظیم المدارس اہلِ سنت اور رویتِ ہلال کمیٹی جیسے اہم پلیٹ فارمز پر آپ نے ذمہ داریاں نبھائیں آپ قیادت کو عہدہ نہیں بلکہ امانت سمجھتے تھے اختلاف کے ماحول میں بھی آپ کا لہجہ نرم، انداز مدلل اور طرزِ عمل مصالحانہ ہوتا 26 جنوری 2020ء کا دن آپ کی حیاتِ مبارکہ کا آخری دن ثابت ہوا مگر کیا شانِ رخصت تھی فجر سے پہلے مسجد پہنچے، خود اذان دی، نماز پڑھائی، ذکر و درود میں مشغول رہے پھر اچانک طبیعت ناساز ہوئی۔ ہسپتال جاتے ہوئے بھی زبان پر درود شریف جاری تھا۔ راستے میں فرمایا مجھے کچھ نہیں ہوا، میں بھی درود شریف پڑھ رہا ہوں۔ آپ بھی درود شریف پڑھیں۔ بالآخر قبلہ رُخ ہو کر کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کی یہی پہچان ہوتی ہے۔ زندگی بھی درود میں، موت بھی درود میں۔ آج جامعہ غوثیہ رضویہ، آپ کے شاگرد، آپ کی اولاد اور آپ کے فیوض و برکات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ الحاج مفتی محمد حیات القادریؒ ایک فرد نہیں، ایک عہد تھے ایسے لوگ دنیا سے جاتے نہیں، تاریخ میں زندہ ہو جاتے ہیں رہنماٶں کا مزید کہنا تھا کہ بزرگان دین کے اعراس میں شرکت قلبی تسکین کا اہم ذریعہ ہے اولیاء اللہ کی اطاعت و فرمابرداری ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرٸے گی آج ہر شخص ذہنی پریشانی میں مبتلا ہے جسکی بنیادی وجہ احکام دین سے دوری ہے ہمیں اللہ تعالی اور اسکے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اولیاٸے کرام کی سیرت و تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ العمل کرکے قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں تو ہماری ساری پریشانیاں ختم ہوجاٸیں گی آخر میں الحاج مفتی محمد حیات القادری رحمتہ اللہ علیہ کے ایصال ثواب اور ملک و قوم کیلٸے اجتماعی دعا کی گٸی قبل ازیں بین الاقوامی شہرت یافتہ ثناء خوانان رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بارگاہ رسالت مآب میں عقیدت کے پھول نچھاور کیٸے جبکہ عوام و خواص میں لنگر رضویہ بھی تقسیم کیا گیا۔

