کوٸٹہ (پ ر) اتحاد اہلسنت پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ علی نواز القادری مدظلہ العالی نے این ٹی ڈی سی (نیشنل گرڈ کارپوریشن آف پاکستان (NGCP) کے ماتحت مساجد میں خدمات سر انجام دینے والے اسٹاف کے سروس اسٹرکچر میں گزشتہ 25 برس سے کوئی خاطر خواہ اپڈیٹ نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوٸے کہا ہے کہ وفاقی و صوباٸی محکموں کی طرح این ٹی ڈی سی ملازمین کے سروس اسٹرکچر کو دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جاٸے حالیہ برسوں میں این ٹی ڈی سی، جی ای ایس سی او اور دیگر ذیلی ادارے وجود میں آئے مگر مساجد اسٹاف کی حالت بدستور پچھلی صدی کے پرانے سسٹم کی قید میں ہے این ٹی ڈی سی کی مساجد، خواہ وہ A کیٹیگری کی بڑی جامع مسجد ہو یا B کیٹیگری کی چھوٹی مسجد، ہر جگہ صرف دو افراد پر مشتمل اسٹاف رکھا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ امام (BPS-9) اور موذن (BPS-5) اس محدود اسٹاف کے ذمے نہ صرف پانچ وقت نمازوں کی ادائیگی، جمعہ و عیدین کے خطبے اور امامت کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں بلکہ مساجد کی صفائی، رکھ رکھاؤ، انتظامی امور اور دینی تعلیمات کے سلسلے میں بھی یہ حضرات اضافی خدمات سرانجام دیتے ہیں باوجود اسکے کہ انکی ذمہ داریاں ہمہ گیر اور ہمہ وقتی نوعیت کی ہیں انکے سروس اسٹرکچر میں نہ کوئی ترقیاتی سیڑھی ہے اور نہ ہی انکے گریڈز میں کوئی بہتری کی راہ ہموار کی گئی ہے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے بیشتر وفاقی و صوبائی اداروں میں وقت کے ساتھ ملازمین کے سروس اسٹرکچر میں نہ صرف تبدیلیاں کی گئیں بلکہ کئی نئے مراعاتی پیکجز، اپ گریڈیشن، پروموشن کے مواقع اور تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے بھی کیے گئے اسکے برعکس مساجد اسٹاف کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے این ٹی ڈی سی کی تقسیم کے بعد بھی مساجد اسٹاف کے مسائل حل نہ ہو سکے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ کی ترجیحات میں یہ شعبہ کبھی شامل ہی نہیں رہا حالانکہ اس دوران این ٹی ڈی سی ادارہ خود تین حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے انکا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ایک شدید ناانصافی اور استحصال کی شکل اختیار کر چکی ہے خصوصاً اس لیے کہ مذہبی امور سے وابستہ افراد کو معاشرے میں ہمیشہ سے قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن انکی مالی و انتظامی حالت روز بر روز پسماندگی کا شکار ہو رہی ہے دینی فریضہ سرانجام دینے والے یہ افراد نہ صرف عبادات کے نگہبان ہیں بلکہ سماجی و اخلاقی تربیت کے مراکز کے بھی محافظ ہیں ہم حکومت پاکستان، وزارت توانائی، اور این ٹی ڈی سی کے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ سروس اسٹرکچر میں فوری اپ ڈیٹ کرکے گریڈز میں فوری طور پر معقول اضافہ کیا جاٸے پروموشن کی مناسب راہ متعین کی جائے اضافی ذمہ داریوں کے بدلے میں مالی مراعات فراہم کی جائیں اور سروس رولز میں تحفظات کو فی الفور دور کیا جائے کیونکہ یہ مسئلہ محض ایک انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک سماجی و مذہبی ذمے داری ہے اگر اس معاملے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو نہ صرف یہ عمل دینی خدمات انجام دینے والوں کی حوصلہ شکنی کرے گا بلکہ مجموعی طور پر ادارے کی ساکھ بھی متاٸثر ہوگی۔

