نصیر آباد میں خواتین پولیس اہلکاروں کی کلیدی عہدوں پر تعیناتی ایک تاریخی سنگ میل ہے،ڈاکٹر ربابہ بلیدی

کوئٹہ(این این آئی) وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے نصیر آباد رینج کے تمام اضلاع میں خواتین پولیس اہلکاروں کو اہم اور کلیدی عہدوں پر تعینات کرنے کے فیصلے پر گہری مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نصیر آباد میں خواتین پولیس اہلکاروں کی کلیدی عہدوں پر تعیناتی ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ خواتین پولیس اہلکاروں کو مختلف تھانوں میں بطور کمپلینٹ آفیسر، نائب محرر اور کمپیوٹر آپریٹر جیسی اہم ذمہ داریاں سونپنا اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت خواتین کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کرتی ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ ان تعیناتیوں کے نتیجے میں اب تھانوں میں خواتین اور سائلین کو ایک محفوظ، باوقار اور اعتماد سے بھرپور ماحول ملے گا۔ خواتین اہلکار گھریلو تشدد اور عام شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے زیادہ حساس اور موثر انداز میں کردار ادا کر سکیں گی، جس سے سائلین، خاص طور پر خواتین کی دادرسی میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ بلوچستان کی بیٹیوں کی صلاحیتیں صرف چار دیواری تک محدود نہیں ہیں۔ وردی میں ملبوس یہ خواتین افسران امن و امان کے قیام میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا لوہا منوائیں گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کیوڑن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ اقدام بلوچستان کی بیٹیوں کو بااختیار بنانے کی جانب عملی پیشرفت ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید کہا کہ خواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کرنا موجودہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا لازمی حصہ ہے اور اس اقدام سے نہ صرف پولیس کا نظام مضبوط ہوگا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر خواتین کا اعتماد بھی مزید مستحکم ہوگا۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی نصیر آباد کی کاوشوں کی بھی تعریف کی جنہوں نے اس انقلابی قدم کو عملی جامہ پہنایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں