کوئٹہ (رپورٹر) نیشنل پارٹی کی صوبائی خواتین سیکرٹری و رکن بلوچستان اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ نے کوئٹہ اور کراچی میں بلوچ لاپتہ افراد کے لیے کیے گئے پرامن احتجاجی مظاہروں پر وحشیانہ تشدد خواتین پر جبرڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین، بیبو بلوچ، لالا وہاب، کامریڈ عمران بلوچ سمیت درجنوں رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاریوں اور ان پر جھوٹے مقدمات کے اندراج کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین آمریت قرار دیا انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ظلم و بربریت کی انتہا کر دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام سے پرامن احتجاج کا بنیادی جمہوری حق چھینا جا رہا ہے بلوچ خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو نہ صرف انسانی حقوق بلکہ تمام اخلاقی اور سماجی اقدار کی بھی کھلی توہین ہے،اس سے بلوچ اور وفاق کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوگئی انہوں نے پیپلز پارٹی کو بلوچ دشمن جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ اور کراچی میں پر امن مظاہرین پر تشدد نے پی پی کا بھیانک چہرے کو مزید بے نقاب کردیا یہ وہی جماعت ہے جو جمہوریت کا ڈھونگ رچاتی ہے مگر ہمیشہ بلوچ عوام کے قتل عام میں شریک رہی انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مکروہ چہرہ تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جائے گا۔ بھٹو سے لے کر زرداری اور بلاول تک، ہر دور میں بلوچ قوم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے انہوں نے کہا کہ ریاست آج بھی طاقت کے استعمال کو ہر مسئلے کا حل سمجھتی ہے جو اس کی سنگین غلط فہمی اور ناعاقبت اندیشی کے سوا کچھ نہیں۔ بلوچ قوم سے احتجاج کا حق چھین لینا انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ انتہائی سنگین ہو چکا ہےمگر حکومت بجائے اس مسئلے کو حل کرنے کے، الٹا عوام سے آئینی و جمہوری حقوق بھی چھیننے پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے
مطالبہ کیا کہ بی وائی سی کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ، بیبو بلوچ، لالا وہاب، نیشنل پارٹی کے رہنما کامریڈ عمران بلوچ سمیت تمام گرفتار قائدین و کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔کلثوم نیاز بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر بلوچ عوام کو مزید دبانے اور ان کے حقوق سلب کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ ریاست کو طاقت کے بجائے سنجیدہ اور مثبت اقدامات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پالیسی اپنانا ہوگی

