بیجنگ(این این آئی)گزشتہ سال 2025 میں پاکستان کی چین کوچاول کی برآمدات 62 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو جزوی یا مکمل چاول کی ترسیلات اور متعدد چینی صوبائی مارکیٹوں میں ٹوٹا چاول کی مسلسل مانگ سے ممکن ہوئی۔گوادر پرو کے مطابق چائنہ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جیسے سی سی)کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے 2025 میں تقریبا 157.74 ملین کلوگرام چاول چین کو برآمد کیے۔ جزوی یا مکمل چاول (HS 10063020) نے برآمدات کا سب سے بڑا حصہ بنایا، جو 110.10 ملین کلوگرام تھا اور اس سے 46.86 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی۔ ٹوٹا چاول کی اقسام تقریبا 47.63 ملین کلوگرام تھیں اور باقی مالیت میں شامل تھیں۔چینی صوبہ گوانگ ڈونگ پاکستانی چاول کا سب سے بڑا ہدف تھا، جہاں تقریبا 61.8 ملین کلوگرام چاول برآمد کیے گئے، جس کی مجموعی مالیت 26 ملین ڈالر سے زائد تھی۔ ترسیلات میں بڑے پیمانے پر جزوی یا مکمل اور وہ ٹوٹا چاول شامل تھے جو زیادہ تر خوراک کی صنعت میں استعمال ہوتے ہیں۔بیجنگ دوسری سب سے بڑی مارکیٹ کے طور پر سامنے آیا، جہاں تقریبا 42.93 ملین کلوگرام جزوی یا مکمل چاول کی برآمدات ہوئی جن کی مالیت 15.48 ملین ڈالر تھی، جو دارالحکومت میں صارفین کے معیار کے چاول کی مسلسل مانگ کی عکاسی ہے۔دیگر اہم برآمداتی مقامات میں آنہوئی، ژیجیانگ، فوجیان، جیانگشی، ہو بی، ہو نان، جیانگ سو، سچوان اور ہیلونگ جیانگ شامل ہیں، جو چین کی مقامی مارکیٹ میں پاکستانی چاول کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی پہنچ کو ظاہر کرتے ہیں۔مصنوعات کے لحاظ سے، جزوی یا مکمل صاف چاول نے برآمدات میں سبقت حاصل کی، اس کے بعد کم از کم 6 ملی میٹر لمبائی والے ٹوٹا چاول اور 6 ملی میٹر سے کم لمبائی والے ٹوٹا چاول شامل تھے۔ اس امتزاج نے پاکستان کو چین میں خوردہ استعمال اور پروسیسنگ کی طلب دونوں کو پورا کرنے کی اجازت دی۔تجارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین میں پاکستان کے چاول کی بڑھتی ہوئی موجودگی مقابلہ جاتی قیمتوں، بہتر صفائی کا معیار اور مستحکم سپلائی چینز کی عکاسی ہے۔ گوانگ ڈونگ اور بیجنگ کی مضبوط مانگ اور اندرونِ ملک صوبوں کی بڑھتی ہوئی خریداری کے ساتھ، توقع کی جا رہی ہے کہ برآمدات مستحکم رہیں گی، جسے دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارتی تعاون مزید مضبوط کرے گا۔

