اسلام آباد(این این آئی)پاکستان کی امریکہ کو برآمدات میں مسلسل تیسرے ماہ بھی کمی کا رجحان برقرار رہا،یہ ملکی بیرونی تجارتی کارکردگی پر بڑھتے ہوئے دبا ؤکی نشاندہی ہے،پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہونے کے ناطے، امریکہ کو ترسیلات میں مسلسل کمی اہم برآمدی شعبوں کو درپیش وسیع تر چیلنجز کو اجاگر کرتی ہے اور آنے والے مہینوں میں رفتار کے حوالے سے خدشات کو جنم دیتی ہے۔گوادر پرو کے مطابق ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستانکی دسمبر 2025 کی ماہانہ تجارتی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ دسمبر مالی سال26- 2025 میں پاکستانی اشیا کی برآمدات کم ہو کر 2.317 ارب ڈالر رہ گئیں، جو دسمبر مالی سال25- 2024 میں 2.911 ارب ڈالر تھیں، یوں سالانہ بنیاد پر 20.41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی ماہ کے دوران اشیا کی درآمدات 5.904 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.022 ارب ڈالر ہو گئیں، یعنی 2 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ماہانہ تجارتی خسارہ بڑھ کر 3.705 ارب ڈالر ہو گیا، جو گزشتہ سال 2.993 ارب ڈالر تھا، اس طرح خسارے میں 23.79 فیصد اضافہ ہوا۔گوادر پرو کے مطابق مالی سال26- 2025 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر)میں پاکستانی اشیا کی برآمدات 15.184 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 16.631 ارب ڈالر تھیں، اس طرح 8.70 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس، اشیا کی درآمدات 30.902 ارب ڈالر سے بڑھ کر 34.388 ارب ڈالر ہو گئیں، جس میں 11.28 فیصد اضافہ ہوا،نتیجتا، جولائی تا دسمبر مالی سال26- 2025 کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ نمایاں طور پر بڑھ کر 19.204 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 14.271 ارب ڈالر تھا، یوں بیرونی تجارتی توازن میں 34.57 فیصد بگاڑ ریکارڈ کیا گیا۔برآمدات پر دبا خاص طور پر امریکہ کو کی جانے والی ترسیلات میں واضح ہے، جو مسلسل تین ماہ سے کم ہو رہی ہیں۔ دسمبر 2025 میں امریکہ کو برآمدات کم ہو کر 447 ملین ڈالر رہ گئیں، جو دسمبر 2024 میں 449 ملین ڈالر تھیں، یوں تقریبا 0.45 فیصد معمولی کمی ہوئی۔ اس سے قبل نومبر 2025 میں برآمدات 439 ملین ڈالر رہیں، جو نومبر 2024 میں 476 ملین ڈالر تھیں، یعنی 8 فیصد کمی۔ اس سے پہلے اکتوبر 2025 میں برآمدات 517 ملین ڈالر تھیں، جو اکتوبر 2024 میں 523 ملین ڈالر کے مقابلے میں 1 فیصد کم تھیں۔تین ماہ کی مسلسل کمی سے قبل برآمدی کارکردگی میں ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آئے۔ ستمبر 2025 میں امریکہ کو برآمدات بڑھ کر 528 ملین ڈالر ہو گئیں، جو ستمبر 2024 میں 477 ملین ڈالر تھیں، اس طرح 11 فیصد اضافہ ہواتاہم اگست 2025 میں برآمدات کم ہو کر 501 ملین ڈالر رہ گئیں، جو اگست 2024 میں 577 ملین ڈالر تھیں، یعنی 13 فیصد کمی۔اگست میں واشنگٹن کی جانب سے جوابی ٹیرف کے نفاذ کے بعد پاکستان کی امریکہ کو برآمدات کی رفتار کم ہونا شروع ہوئی جس کے اثرات بعد کے مہینوں میں مزید نمایاں ہوتے گئے۔ صنعتی اداروں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ زیادہ ڈیوٹیاں خاص طور پر ٹیکسٹائل شعبے میں پاکستان کی برآمدی مسابقت کو شدید متاثر کریں گی، جو امریکہ کو کی جانے والی ترسیلات کا بڑا حصہ ہے۔گوادر پرو کے مطابق ساتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) اور ساتھ ایشین فیڈریشن آف اکانٹنٹس (SAFA) نے متنبہ کیا تھا کہ ان ٹیرف اقدامات کے نتیجے میں برآمدی حجم میں 20 سے 30 فیصد تک کمی آ سکتی ہے، جس کی وجوہات میں منافع کے مارجن میں سکڑا، آرڈرز کی منسوخی اور قیمتوں کے مقابلے کی صلاحیت میں کمی شامل ہیں۔ موجودہ گراوٹ ان اندازوں کی تصدیق کرتی دکھائی دیتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 19 فیصد ٹیرف اب برآمدی آمدن اور تجارتی بہا پر نمایاں اثر ڈالنا شروع ہو چکا ہے، جو پاکستان کے بیرونی کھاتوں اور مجموعی معاشی منظرنامے پر دبا میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

