صحبت پور (رپورٹ اعجاز پیچوہا)نیشنل پارٹی صحبت پور کے صدر میر رستم خان کھوسہ نے اپنے ایک شدید اور دو ٹوک بیان میں صحبت پور انتظامیہ کی جانب سے پرامن احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن، گھروں، ہوٹلوں، گلی کوچوں اور بازاروں سے زبردستی گھسیٹ کر گرفتاریوں کو کھلی ریاستی جارحیت اور آئین و قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی نااہلی، بدانتظامی اور عوام دشمن پالیسیوں کے باعث بلوچستان کے سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ جب وفاقی حکومت نے ملک کے دیگر صوبوں کے ملازمین کو ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) دینے کا فیصلہ کیا ہے تو بلوچستان کے ملازمین کو اس حق سے محروم رکھنا صریح ناانصافی، تعصب اور امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
میر رستم خان کھوسہ نے کہا کہ موجودہ کمر توڑ مہنگائی، اشیائے خورونوش کی بے تحاشا قیمتوں، بجلی، گیس اور پٹرول کی ہوشربا بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملازمین کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، مگر اس کے باوجود بلوچستان حکومت ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے انہیں جیلوں میں ڈال کر ان کی تذلیل کر رہی ہے، جو ایک فسطائی طرزِ حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن صوبائی حکومت اس حق کو طاقت کے زور پر کچلنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ نیشنل پارٹی اس جبر، تشدد اور غیر آئینی اقدامات کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے ملازمین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کے جائز حقوق کے حصول تک ہر سطح پر سیاسی، جمہوری اور مزاحمتی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اگر حکومت نے فوری طور پر اپنے رویے میں تبدیلی نہ لائی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔
آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان حکومت فوری طور پر ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے، ملازمین کی تنخواہوں میں فوری اضافہ کرے، پرامن احتجاج کرنے والے تمام گرفتار ملازمین کو فی الفور رہا کرے

