نوکنڈی (این این آئی) سابق سٹی ناظم سردار شوکت علی ایجباڑی، سابق تحصیل ناظم سردار نوربخش شیرزئی اور دیگر قبائلی عمائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ ریکوڈک مائننگ کمپنی (RDMC) کی موجودہ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کمیٹی (CDC) کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے، کیونکہ یہ ایک خود ساختہ کمیٹی ہے جو عوامی حمایت سے خالی ہے اور کمپنی کی پالیسیوں کے برخلاف تشکیل دی گئی ہے۔ایجباڑی ہاؤس میں منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی عمائدین نے کہا کہ موجودہ CDC میں قبائلی، نوجوان اور بلدیاتی نمائندگی شامل نہیں، جو علاقے کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ ریکوڈک مائننگ کمپنی نے نوکنڈی اور گردونواح میں صحت، تعلیم اور فنی تربیت کے شعبوں میں قابلِ ذکر ترقیاتی اقدامات کیے ہیں، جن میں انڈس ہسپتال اور ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر جیسے منصوبے شامل ہیں، جنہیں اہلِ نوکنڈی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔تاہم مقررین نے الزام عائد کیا کہ CDC کے بعض اراکین سوشل سیکٹر فنڈز کو سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور کمپنی پالیسی کے برخلاف ٹھیکے حاصل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ CDC کے تمام اراکین کے خلاف شفاف انکوائری کی جائے اور ایک غیرجانبدار، نمائندہ اور شفاف کمیٹی تشکیل دی جائے۔پریس کانفرنس میں شامل قبائلی عمائدین میں میر رضا علی قادری سنجرانی، میر ظاہر جان ایجباڑی، میر انور ایجباڑی، میر غلام جیلانی ساسولی، سید تاجل شاہ، حاجی عبدالسلام کشانی، منظور کبدانی، میر انور جان ایجباڑی،منیر احمد خلجی، ڈاکٹر عبدالحکیم ایجباڑی، عبدالرحیم عالیزئی، مفتی محی الدین حبیبی، عبدالمجید محمدزئی، غلام محی الدین ناروئی، محمد اسماعیل شہی، وائس چیئرمین داؤد خان ایجباڑی، ڈسٹرکٹ اقلیتی ممبر پرشوتم لعل، حاجی عبداللہ مینگل اور محمد انور برہانزئی و دیگر شامل تھے۔آخر میں قبائلی عمائدین نے ریکوڈک مائننگ کمپنی کے CEO اور جنرل منیجر سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ذاتی دلچسپی کے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں اور واضح کیا کہ اگر مطالبات نہیں مانے گئے تو احتجاج سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

