کراچی: عالمی مارکیٹ میں گزشتہ 2 روز سے وسیع پیمانے پر منافع کے حصول کے رجحان کے باعث سونے کی قدر ایک نئے زون میں داخل ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں جب یہ یقین ہو گیا تھا کہ امریکا شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا تو مارچ 2024 سے سونے کی قیمتوں میں اضافے کا آغاز ہوا، جس کا تسلسل سال 2025 میں بھی جاری رہا۔
امریکی صدر اور فیڈرل ریزرو کے سربراہ کے درمیان تنازع شدت اختیار کرنے، وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکی قبضے، گرین لینڈ اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر کے سینٹرل بینکوں کی جانب سے گزشتہ 2 سال میں تقریباً 1700 ٹن سونے کی خریداری کی گئی۔
اس دوران چین کی جانب سے بھی ڈالر بانڈز اور ٹریژری بلوں کو فروخت کرکے خالص سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ 2 سال کے دوران فی اونس سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 3 ہزار 500 ڈالر کا خطیر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مقامی صرافہ مارکیٹوں میں مارچ 2024 میں فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 27 ہزار 800 روپے تھی، جو 2 روز قبل تک یعنی 28 جنوری 2025 کو بڑھ کر 5 لاکھ 72 ہزار 862 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی تھی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ بین الاقوامی سطح پر امریکی تنازعات، بڑھتی کشیدگی اور ٹیرف دھمکیوں کے باعث نہ صرف قیمتی دھاتوں کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ کموڈٹیز اور خام تیل کی قیمتوں میں بھی غیر متوقع طور پر نمایاں اضافے کا رجحان غالب ہو گیا ہے۔

