کوئٹہ (این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق اور سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیر نائب امیر مولانا خورشید احمد، حاجی بشیر احمد کاکڑ، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد نورزئی، مفتی رضا خان، میر سرفراز شاہوانی، حاجی ظفراللہ کاکڑ، میر حشمت لہڑی، سیٹھ اجمل بازئی، سالار مولوی علی جان، سید سعداللہ آغا، مولوی نقیب اللہ ملاخیل اور دیگر نے شہر کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ، دھماکوں اور دیگر پرتشدد واقعات کے تسلسل پر گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور سرکاری و نجی املاک کو پہنچنے والا نقصان انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ برداشت ہے۔ وہ لوگ کہاں ہیں جو کہتے تھے کہ “ایک ایس ایچ او کی مار ہے” کوئٹہ عملاً یرغمال بن چکا ہے اور شہری اپنے ہی شہر میں عدم تحفظ اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امن و امان کی رِٹ ختم ہو چکی ہے۔ قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن کی جانب سے پہلے ہی جس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا، آج حالات نے اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے، جو حکومتی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اداروں اور انٹیلیجنس نظام کی جانب سے بروقت معلومات کی فراہمی میں ناکامی اور پیشگی اقدامات نہ کرنا کھلی حکومتی غفلت کو ظاہر کرتا ہے، جس کا خمیازہ معصوم شہری اپنی جان و مال کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے، اگر بروقت مؤثر حکمتِ عملی، ٹھوس سیکیورٹی پلان اور انٹلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں کی جاتیں تو اس قدر جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکتا تھا۔

