سبی(رپورٹر)تاریخی و ثقافتی میلہ مویشیاں واسپاں 2026 کی تیاریاں٬شہریوں کی جوش و خروش عروج پر,سبی میلے کے انعقاد سے مالداروں کے چہرے کھل اٹھے,سبی شہر کی رونقیں بڑھ گئیں, سارا سال سبی میلہ کا شدت سے انتظار رہتا ہے۔ عوامی حلقے۔ تفصیلات کے مطابق سبی کا تاریخی و ثقافتی میلہ مویشیاں واسپاں کی تیاریاں زوروشور کے ساتھ جاری ہیں۔ سبی میلہ مویشیاں واسپاں کے موقع پر شہر بھر کو دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے جو کہ شہر کی خوبصورتی میں مزید اضافے کا سبب بنتا ہے۔ مالدار حضرات سارا سال سبی میلے کا شدت سے انتظار کرتے رہتے ہیں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تاریخی و ثقافتی سبی میلہ مویشیاں واسپاں مالداروں کےلیے خوشحالی کا باعث بنتا ہے تو دوسری جانب یہاں کے باشندوں کےلیے روزگار, کاروبار اور عوام کےلیے سیر و تفریح کا بھی ذریعہ بنتا ہے جس سے شہریوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ عوامی حلقوں نے مزید کہا کہ سبّی میلہ عوام النّاس کے لیے خوشیوں کا پیغام لانے کے ساتھ سماجی و معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا بھی سبب ہے۔ میلے میں بلوچستان کے معاشی سرگرمیوں جیسا کہ مالداری، زراعت، دستکاری کے علاوہ معاشرتی طرز حیات و فنون لطیفہ کے حوالے سے سٹالز اور کئی پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے ثقافتی و معاشرتی رنگوں کو بھی سبی میلے میں خصوصی طور پر اجاگر کیے جاتے ہیں اس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کے لیے بھی سبی میلہ ایک بڑے تجارتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں شہریوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد مختلف ذائقوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بچوں، خواتین اور خاندانوں کے لیے تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ معلوماتی اسٹالز میلے کی رونق میں مزید اضافہ کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ سبی میلہ میں زرعی نمائش کو دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے، جہاں خوبصورت سجاوٹ، روشنیوں اور رنگ برنگے بینرز ماحول کو مزید دلکش بناتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسی نمائشیں نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ کسانوں اور عام شہریوں کے لیے علم و آگاہی کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سبی میلہ ایک تہذیبی وَرثہ ہے اور گلّہ بانی یہاں کے باسیوں کی زندگی میں ازحد اہمیت کی حامل ہے، اِس میلے کے انعقاد کا اصل مقصد مویشی پالنے والوں کی آمدنی میں اضافہ اور علاقے کی خوش حالی ہے۔ بلوچستان کی 80 فی صد آبادی کا انحصار گلّہ بانی ہی پر ہے۔ منڈی مویشیاں واسپاں نہ صرف سبّی، بلکہ صوبے بَھر کی آمدنی میں اضافے کا باعث ہے۔ یہ میلہ جہاں گلّہ بانی اور زراعت کے فروغ کے ضمن میں اہمیت کا حامل ہے، وہیں اِس سے ہمیں باہمی پیار و محبّت، بھائی چارے اور یگانگت کا درس بھی ملتا ہے۔

