کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس اور سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد، مولانا سعید احمد، حافظ سراج الدین، مولانا محمد شعیب جدون، مفتی روزی خان بادیزئی، اور دیگر نے اپنے مشترکہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ خون آشام شورش کے خاتمے کے لیے سیاسی بصیرت اور قابلِ اعتماد فضا کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے، معاشی طور پر مفلوج عوام پہلے ہی بدترین مشکلات کا شکار ہیں اور اب دہشت گردی اور گولیوں کا نشانہ بن کر شدید عدم تحفظ کا سامنا کررہے ہیں، حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہاکہ اگر گزشتہ عام انتخابات میں عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ نہ ڈالا جاتا، اور قوم کے فیصلے کو نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنایا جاتا، تو آج بلوچستان بالخصوص کوئٹہ اس سنگین بدامنی، خونریزی اور عدم تحفظ کی صورتحال سے ہرگز دوچار نہ ہوتا۔ملکی سطح پر بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص عوام کی رائے کو روند کر، عوامی حمایت سے محروم ڈمی اور مسلط کردہ افراد کو اقتدار میں لایا گیا، جس کا خمیازہ آج معصوم شہری، نہتے عوام اور فرض شناس سیکیورٹی اہلکار اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔ یہ خون کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل سیاسی جبر، انتخابی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کا انجام ہے۔ جمعیت علماء اسلام اس حقیقت کو پوری ذمہ داری سے دہراتی ہے کہ اگر بلوچستان میں حقیقی، شفاف اور آزاد انتخابات ہوتے، اگر عوام کے ووٹ سے ان کی حقیقی نمائندہ جماعتیں منتخب ہو کر اقتدار میں آتیں، تو آج صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دن دہاڑے دہشت گرد شہر کے وسط میں دندناتے نہ پھرتے، نہ ہی ریڈ زون می داخل ہوکر کاروائی کرتے اور نہ ہی کوئٹہ کیشہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے۔آج کی بدامنی، سیکیورٹی کی ناکامی اور ریاستی رِٹ کی کمزوری دراصل 8 فروری 2024 کے انتخابی جرم کا تسلسل ہے، جس نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی آخری دیوار بھی گرا دی ہے۔ عوامی مینڈیٹ کو پامال کرنے والے عناصر کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ بندوق، طاقت اور مسلط کردہ نظام سے نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ملک کو استحکام مل سکتا ہے۔دریں اثناء جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے ترجمان کے مطابق آج بروز منگل جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس دو بجکر تیس منٹ پر ضلعی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوگا جس میں موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

