تربت(این این آئی) تربت شہر میں گزشتہ بیس دنوں سے سرکاری ملازمین کے احتجاج کے باعث تمام سرکاری ادارے بند پڑے ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمہ خزانہ کے سوا ضلع کیچ کے دیگر تمام سرکاری محکمے مکمل طور پر بند ہیں، جس سے دفتری امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔سرکاری دفاتر کی بندش کے باعث شہریوں کے روزمرہ کے کام، سرکاری اسناد کی تیاری، ترقیاتی امور، صحت اور دیگر بنیادی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے دفاتر بند رہنے کے باعث انہیں بار بار چکر لگانے پڑ رہے ہیں، مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ دوسری جانب سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی بندش نے تعلیمی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق تعلیمی اداروں کی مسلسل بندش سے طلباء کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو رہا ہے اور امتحانات و نصاب کی تکمیل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ والدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بچوں کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔احتجاجی ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات جائز ہیں اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ جبکہ شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومتِ بلوچستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرکے ملازمین کے مسائل حل کریں تاکہ سرکاری ادارے بحال ہوں اور عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

