اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے مذہبی ہم آہنگی، موثر بیانیہ سازی اور نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عملدرآمد کے ذریعے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف مربوط اقدامات کا آغاز کر دیا ہے،پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف قابل اعتماد بیانیہ تشکیل دینا بنیادی طور پر علمائے کرام کی ذمہ داری ہے۔منگل کو وقفہ سوالات میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بغیر کسی مسلکی یا سیاسی امتیاز کے پیغام امن کمیٹی قائم کی گئی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس کمیٹی میں ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مختلف مذاہب کے نمائندگان شامل ہیں جو انتہاپسندی، تشدد اور دہشت گردی کے خلاف موثر جوابی بیانیہ کو فروغ دینے کے لیے ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی میں مذہبی علما، سینئر سرکاری افسران اور اقلیتی نمائندگان شامل ہیں۔ کمیٹی کے ارکان میں مولانا عبد الکریم، مفتی رحیم، علامہ عارف وحیدی، پیر نقیب الرحمٰن، علامہ حسین اکبر، ڈاکٹر راغب نعیمی، مولانا طاہر اشرفی، مولانا طیب پنج پیری، علامہ ضیاء اللہ بخاری، بشپ آزاد مارشل، راجیش کمار ہرداسانی اور سردار رمیش سنگھ اروڑا شامل ہیں۔وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف قابل اعتماد بیانیہ تشکیل دینا بنیادی طور پر علمائے کرام کی ذمہ داری ہے تاہم حکومت نے وزارت اطلاعات میں کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم (سی وی ای) سیل بھی قائم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی وی ای سیل کی تیار کردہ بیانیہ سازی کی رسائی اور اثرات خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر، جانچنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ایک مکمل طور پر فعال ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ ملک بھر میں انسداد انتہاپسندی کے بیانیے کی ترسیل کر رہا ہے،حالیہ سیاسی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا وزیر اعظم سے ملاقات کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے جس سے وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کے درمیان بالخصوص امن و امان اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر ہم آہنگی بہتر ہوگی۔بعد ازاں وزیر مملکت طلال چوہدری نے بھی سینیٹ کو انتہاپسندی کے خلاف حکومت کی وسیع حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کائینیٹک اور نان کائینیٹک دونوں اقدامات بیک وقت کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق انسداد انتہاپسندی پر حالیہ اجلاس وزیر اطلاعات کی قیادت میں منعقد ہوا جبکہ وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم پیغام امن کمیٹی نے جامعات، مدارس، مساجد اور معاشرے کے دیگر طبقات پر مشتمل ایک جامع آگاہی پروگرام تیار کیا ہے۔طلال چوہدری نے 14 نکاتی نیشنل ایکشن پلان-ٹو (NAP-II) پر مکمل پارلیمانی بحث کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصل نیشنل ایکشن پلان آرمی پبلک سکول سانحے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے دور میں تشکیل دیا گیا تھا اور بعد ازاں پی ٹی آئی حکومت کے دوران تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے اس میں نظرثانی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی رابطہ کمیٹی جس کی سربراہی وزیر اعظم کرتے ہیں اور جس میں تمام وزرائے اعلیٰ اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان شامل ہوتے ہیں، باقاعدگی سے پیش رفت کا جائزہ لیتی ہے جبکہ وزیر داخلہ ماہ میں دو بار اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک علیحدہ ”ہارڈننگ آف دی سٹیٹ“ کمیٹی بھی تمام 14 نکات پر عملدرآمد کی نگرانی کر رہی ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف اسی وقت حاصل ہوئی جب تمام سیاسی قوتیں سکیورٹی اداروں کے ساتھ متحد ہوئیں اور اب ایک بار پھر انتہا پسندی اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے اسی اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایوان تفصیلی بحث کے لیے وقت مختص کرے تو حکومت NAP-II کے تمام نکات پر عملدرآمد بشمول وفاقی اور صوبائی کارکردگی پر جامع بریفنگ دینے کے لیے تیار ہے۔

