بلوچ پشتون اختلافات کو ہوا دینا سیاسی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے، میر کبیر محمدشہی

کوئٹہ (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمدشہی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ پشتون برادر اقوام صدیوں سے آپس میں ہمسایہ اور اپنی اپنی سرزمین پر آباد ہیں۔ دونوں اقوام ایک دوسرے کی حدود، ملکیت اور سیاسی عملداری سے بخوبی واقف ہیں اور اگر کہیں پر اختلاف ہو بھی تو وقت آنے پر اسے اپنے رسوم و رواج اور منصفانہ اصولوں کی روشنی میں باہمی احترام کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ حالات میں دونوں محکوم قوموں کو یکساں چیلنجز کا سامنا ہے جن کا مقابلہ کرنے کے لیے برادر اقوام کے درمیان تعاون و ہم آہنگی کے زریعے قومی حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ تاہم بدقسمتی سے ایسے حالات میں نہایت زمہ دار شخصیات کی جانب سے نادانستہ طور پر تاریخ اور حقائق کو مسخ کرکے بلوچ کی ملکیت اور وجود کا انکار برادر اقوام کے درمیان سیاسی ہم آہنگی اور یکسوئی کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ میر کبیر نے مزید کہا ہے کہ جہاں تک شال/کوئٹہ سے بلوچوں کی تاریخی و وطنی وابستگی کی بات ہے تو اس حوالے سے تاریخ اور زمینی حقائق دونوں واضح ہیں اور ہمیں کسی سے سند لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے مہربان دوست اگر اپنے ہی پیش کردہ تاریخی حوالہ “گزیٹر آف بلوچستان 1907” کا بھی کھلے دل سے مطالعہ کریں تو ان کی بہت سی غلط فہمیاں اسی سے دور ہوسکتی ہیں۔ تاریخی طور پر کوئٹہ میں خان قلات، شاہوانی، کاسی اور سادات سمیت دیگر قبائل کی ملکیتیں موجود رہی ہیں۔ ستارہویں صدی میں خان بلوچ میر احمد خان (اول) کے دور سے شال بلوچ خوانین کے زیر حکمرانی بلوچستان کا حصہ رہا ہے۔ جن بلوچوں سے متعلق کہا گیا کہ ان کی کوئٹہ میں زمین ہی نہیں رہی ان کے خوانین قلات نہ صرف کوئٹہ کے حکمران تھے بلکہ اپنی ملکیت سے مختلف قبائل اور شخصیات کو وہاں جاگیریں عطا کرتے رہے۔ اس خطے میں انگریزوں کی آمد کے وقت بھی کوئٹہ بلوچستان کا حصہ تھا اور 1879 میں انگریزوں کی جانب سے براہ راست کوئٹہ کا انتظام سنبھالنے کا بندوبست اور بعدازاں 1883 میں کوئٹہ کو لیز پر حاصل کرنے کا معاہدہ بھی خان قلات کے ساتھ ہی طے پایا۔ میر کبیر نے مزید کہا ہے کہ جہاں تک گزیٹر کے حوالے سے آبادی کے تناسب کا تعلق ہے تو اس میں 1901 کی مردم شماری کے مطابق کوئٹہ کی آبادی اتنی کثیرالقومی تھی کہ یہاں کوئی بھی قوم اکثریت میں نہیں تھی حتی کہ بلوچ اور پشتون آبادی کو اکٹھا کیا جاتا تب بھی وہ غیرمقامی آبادی سے کم تھے جبکہ بلوچ اور پشتون آبادی کے تناسب میں محض 5 فیصد کا فرق تھا۔ اسی طرح نوآبادیاتی دور کے کمشنریٹ برٹش بلوچستان کے رقبے کا بڑا حصہ بھی بلوچ علاقوں پر ہی مشتمل تھا۔ ان تمام معلومات کی تصدیق گزیٹر سے باآسانی کی جاسکتی ہے۔ میر کبیر نے آخر میں کہا کہ آج بھی کوئٹہ مختلف اقوام اور برادریوں کا گلدستہ ہے اور ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔ اس وقت بلوچ اور پشتون اقوام کو سنگین مسائل کا سامنا ہے جہاں لوگوں کی جان، مال و عزت غیرمحفوظ ہے اور دونوں اقوام کو اپنی ہی سرزمین پر جمہوری نمائندگی اور حق حکمرانی سے محروم کرکے ان کے وسائل کا استحصال اور بنیادی حقوق سلب کیے جارہے ہیں۔ ایسے میں ہماری سیاسی جماعتوں، قائدین اور کارکنان کو غیرضروری تنازعات پیدا کرکے تلخیوں کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد اور اتفاق پیدا کرکے مشترکہ چیلنجز اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر مشترکہ جدوجہد کے راستے تلاش کرنے چاہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں