10 ارب ڈالر تجارتی ہدف کے لیے پاکستان ایران روابط اور عملی اقدامات ضروری، ایم کریمی

کوئٹہ(این این آئی)کوئٹہ میں متعین ایران کے قونصل جنرل ایم کریمی تودیشکی نے کہا ہے کہ برادر اسلامی ممالک پاکستان اور ایران کے درمیان مقررہ دوطرفہ تجارتی اہداف کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو سنجیدگی سے دور نہیں کیا جاتا۔ 10ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے لیے طویل المدتی بنیادوں پر باہمی رابطوں، مسلسل گفت و شنید اور عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران اور اراکین کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے دوران کیا۔اس موقع پر ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی، سینئر نائب صدر حاجی اختر کاکڑ اور دیگر عہدیداران نے کہا کہ امریکی اور ایف اے ٹی ایف پابندیوں کے باوجود پاک ایران کاروبار کا فروغ پانا حوصلہ افزا امر ہے تاہم مزید بہتری کے لیے بعض بنیادی مسائل کا حل ضروری ہے۔چیمبر کے نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ ویزوں کے اجرا کے عمل میں تاجروں کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر انٹرویو اور دیگر سخت شرائط سے استثنیٰ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انوائس کی تصدیقی فیس کاروبار پر قدغن کے مترادف ہے جسے کم یا مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ایرانی منڈیوں تک پاکستان سے برآمد کیے جانے والے مال کی رسائی کو آسان بنایا جائے اور مجوزہ و دیگر غیر ضروری شرائط کا خاتمہ کیا جائے۔آخر میں شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر مذکورہ رکاوٹوں کو دور کر لیا جائے اور باہمی تعاون کو عملی بنیادوں پر استوار کیا جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان 10ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کا حصول یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی قونصل جنرلایم کریمی تودیشکی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی اور روایتی تجارتی تعلقات رہے ہیں تاہم انفراسٹرکچر کی کمی، سہولیات کا فقدان اور دوطرفہ معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث دوطرفہ تجارت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اب وقت آ گیا ہے کہ محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ایم کریمی تودیشکی نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے مختصر المدتی اور طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ دونوں ممالک کے فری ٹریڈ زونز میں قانونی اور دیگر مسائل کی وجہ سے عدم توازن پایا جاتا ہے جس کے خاتمے کے لیے فوری اور موثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ تجارتی توازن کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کا پاک ایران دوطرفہ تجارت کے فروغ میں کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ جوائنٹ بارڈر ٹریڈ کمیٹی کے اجلاسوں میں کیے گئے معاہدوں پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے جبکہ آئندہ اجلاسوں میں ایسے نکات پر معاہدے کرنے سے گریز کیا جائے جو قابلِ عمل نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں محض باتوں کے بجائے عملیت کی جانب گامزن ہونا ہوگا۔ایرانی قونصل جنرل نے اعلان کیا کہ جو پاکستانی بزنس مین ایران میں صنعت قائم کرے گا اسے پانچ سالہ اقامہ سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران اور اراکین کی جانب سے جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے، اجلاس کے اختتام پر یادگا ری شیلڈز کا تبا دلہ بھی کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں