سپر ٹیکس کا فوری فائدہ تو حکومتی خزانے کو ہو سکتا، اس کے منفی اثرات معیشت پر طویل المدت ثابت ہوں گے،سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ سپر ٹیکس کا فوری فائدہ تو حکومتی خزانے کو ہو سکتا ہے مگر اس کے منفی اثرات معیشت پر طویل المدت ثابت ہوں گے صنعتکاروں اور کاروباری طبقے پر اضافی ٹیکس لاگت بڑھا دے گا جس کا نتیجہ قیمتوں میں مزید اضافے اور روزگار کے مواقع میں کمی کی صورت میں نکلے گا اس سے نہ صرف مہنگائی بڑھے گی بلکہ سرمایہ کاری کا ماحول بھی متاثر ہوگاحکومت کی جانب سے سپر ٹیکس کے نفاذ نے پہلے سے مہنگائی، بے روزگاری اور مسلسل ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے بجلی، گیس، پیٹرول، اشیائے خورونوش اور تعلیم و علاج جیسے بنیادی شعبوں میں مسلسل اضافے کے بعد اب سپر ٹیکس نے عام آدمی کی معاشی حالت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمدعبدالقادر نے کہاکہ ریاست کو محصولات درکار ہیں، مگر اس کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے اور صارفین پر ڈال دینا معاشی انصاف کے اصولوں کے منافی اور عوام کے معاشی قتل عام کے مترادف ہے عوام پہلے ہی بے شمار براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جبکہ ٹیکس نیٹ سے باہر موجود بااثر طبقات بدستور مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ایسے میں مزید ٹیکس عوام کے صبر کا امتحان لینے کے مترادف ہے اگر حکومت نے عوامی مشکلات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو اس کے خلاف شدید عوامی ردِعمل سامنے آ سکتا ہے حکومت ٹیکس اصلاحات پر توجہ دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں