پاکستان،قازقستان بزنس فورم کا انعقاد، آئندہ 2 سال میں تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان اور قازقستان نے باہمی اقتصادی تعلقات اور تجارتی حجم کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ 2 سال میں تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک لے جانے پر زور ددیتے ہوئے تجارت اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کیلئے 5 سالہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وسط ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کے مواقع سے استفادہ کرنے، ریل اور روڈ رابطوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 37 سمجھوتے دوطرفہ تعاون میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔ بدھ کو یہاں پاکستان-قازقستان بزنس فورم کا انعقاد ہوا جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف شریک ہوئے۔ فورم میں قازقستان کی 50 سے زائد اور پاکستان کی 250 کے قریب کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فورم میں شریک کاروباری برادری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ نشست ہمارے مستقبل کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان کے صدر کے ساتھ مفید بات چیت ہوئی ہے، خوشی ہے کہ دونوں ممالک کے تاجروں کی بڑی تعداد فورم میں شریک ہے۔ وزیراعظم نے پاکستانی بندرگاہوں کو وسط ایشیائی ریاستوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کو تجارت کے لئے اپنی بندرگاہوں کے ذریعے قریب ترین راستہ فراہم کر سکتا ہے، قازقستان اپنی مصنوعات گوادر اور کراچی پورٹ کے ذریعے برآمد کر سکتا ہے۔ انہوں نے ترکمانستان، افغانستان کے راستے قازقستان کے ساتھ ریل اور روڈ رابطے کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قازقستان کے ساتھ ریل اور روڈ رابطے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، یہ منصوبہ گیم چینجر ہوگا اور نہ صرف پاکستان اور قازقستان بلکہ خطے کی اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، پاکستان اس منصوبے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ وزیراعظم نے موجودہ تجارتی حجم جو 250 ملین ڈالر ہے، کو اصل صلاحیت سے بہت کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی درست عکاسی نہیں کرتا، پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں، آئندہ 2 سال میں تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے لئے پرعزم ہیں اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات کریں گے۔ وزیراعظم نے قازقستان کے دورے کی دعوت پر صدر قاسم جومارت توکایووف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بخوشی یہ دعوت قبول کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لئے 5 سالہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے اور اس سلسلے میں احسن اقبال پاکستانی سائیڈ جبکہ قازقستان کے نائب وزیراعظم قازقستان کی طرف سے سربراہی کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ چیلنجز کو قبول کرتے ہوئے دوستانہ، کاروباری و تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کا وقت ہے، دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 37 سمجھوتے دوطرفہ تعاون میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 23 سال بعد کسی بھی قازق صدر کا پاکستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے جو ان کی پاکستان سے والہانہ محبت کی عکاسی کرتا ہے، اس سے قبل 2004ء میں صدر نور سلطان دورے پر آئے تھے۔ انہوں نے صدر قاسم جومارت توکایووف کے وژن، تجربے اور مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دہائیوں سے چین، روس اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بزنس فورم کے انعقاد پر وزیراعظم شہباز شریف کا مشکور ہوں، دوطرفہ تعلقات کو تزویراتی شراکت داری میں بدلنا ایک اہم سنگ میل ہے، دونوں ممالک نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم کا اظہار کرتے ہوئے سیاحت، زراعت، تعلیم، آئی ٹی، صحت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا ہے، آئندہ 2 برس میں باہمی تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے پرعزم ہیں۔ قازقستان کے صدر نے کہا کہ بین الحکومتی کمیشن کے ذریعے بزنس ٹو بزنس روابط کو فروغ دیا جائے گا، قازقستان میں کاروبار کے لئے وسیع اور پرکشش مواقع موجود ہیں اور کئی پاکستانی کمپنیاں ان سے استفادہ کر رہی ہیں، پاکستانی کمپنیوں کو قازقستان میں کاروبار کے لئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان اور قازقستان کو علاقائی اور عالمی رابطوں کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون خطے کے لئے خوش آئند ہے۔ انہوں نے قازقستان، ترکمانستان، افغانستان، پاکستان ٹرانسپورٹ کوریڈور انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاجسٹکس اور کارگو کا جدید نظام علاقائی اور عالمی رابطوں کے لئے معاون ہوگا۔ انہوں نے زراعت کے شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات اور مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک زرعی پیداوار اور زرعی مصنوعات کے لئے تعاون بڑھا کر بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے حکومت پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت نے اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے، قازقستان بھی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے، ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی طلباء قازقستان میں طب، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان تعاون کے سمجھوتوں کو خوش آئند قرار دیا، قازقستان کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو اپنا بھائی اور دوست قرار دیتے ہوئے قازقستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔قبل ازیں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایک سال میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوسرے بزنس فورم کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وسط ایشیائی ریاستوں میں قازقستان کی معیشت سب سے مضبوط ہے، گزشتہ تین سال میں دوطرفہ تجارتی حجم میں دو گنا اضافہ ہوا ہے، پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ کو تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ 50 سے زیادہ قازق کمپنیاں اور 250 کے قریب پاکستانی کمپنیاں بزنس فورم میں شریک ہیں، بڑی تعداد میں کاروباری شخصیات کی بزنس فورم میں شرکت باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں