کوئٹہ(این این آئی)محکمہ ثانوی تعلیم اور محکمہ داخلہ کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے دو اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوئے، جن میں منصوبوں کی رفتار، معیارِ تعمیر، شفافیت اور بروقت تکمیل پر تفصیلی غور کیا گیا۔محکمہ ثانوی تعلیم کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس سیکریٹری ثانوی تعلیم اسفند یار کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان، محکمہ مواصلات و تعمیرات کے تمام چھ زونز کے چیف انجینئرز و افسران اور محکمہ ثانوی تعلیم کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ ثانوی تعلیم میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں منصوبوں کی موجودہ پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی گئی۔اس موقع پر سیکریٹری ثانوی تعلیم اسفند یار کاکڑ نے جاری منصوبوں میں معیارِ تعمیر، شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ اور تدریسی عملے کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے تعلیمی انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد سے وابستہ تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے، بالخصوص محکمہ تعلیم کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مزید تیزی لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔دریں اثنا، سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان کی زیر صدارت محکمہ داخلہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے بھی ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات، محکمہ داخلہ اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو محکمہ داخلہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کہا کہ صوبے میں جاری اہم نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ ان منصوبوں کا براہِ راست تعلق عوامی سہولیات اور امن و امان کے نظام سے ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے اور مؤثر نگرانی کے ذریعے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد ان کے ثمرات میسر آ سکیں۔

