تمبو،لڑائی جھگڑے میں خواتین سمیت 11افراد کو زخمی کرنے کیخلاف درجنوں افراد نے احتجاجا قومی شاہراہ بلاک کردی

ڈیرہ مراد جمالی (این این آئی) تمبو منجھو شوری پولیس تھانے کی حدود لڑائی جھگڑے کے دوران چھ خواتین سمیت گیارہ افراد کو زخمی کرنے والے واقعے پر متاثرین کا ایس ایچ او منجھو شوری پر جانبداری کا الزام درجنوں افراد کا احتجاج دھرنا قومی شاہراہ کو بلاک کر دیا گیا پولیس کے مطابق تمبو منجھو شوری پولیس تھانے کی حدود گوٹھ حفیظ جتک میں شادی کے دوران بچوں کی معمولی لڑائی پر مخلف گروپ نے حملہ اور ہوکر چھ خواتین سمیت گیارہ افراد کو زخمی کر دیا گیا متاثرہ خاندان کے سربراہ شیر محمد جتک نے الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او منجھو شوری نے حملہ اوروں کو گرفتار کرنے کے بجائے سیاسی دباؤ میں آکر ہمارے چار زخمی افراد کو گرفتار کرکے تھانہ مین پند کر دیا شیر محمد جتک اور انکی برادری کے درجنوں افراد نے ایس ایچ او منجھو شوری کی جابنداری کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوے ڈیرہ مراد جمالی پٹ فیڈر پل پر دھرنا دیکر قومی شاہراہ کو بلاک کر دیا گیا دھرنے کے باعث سندھ اور بلوچستان کے درمیان چلنے والی ٹریفک معطل ہو گئی بعد ازاں ڈی ایس پی سٹی شمن علی سولنگی ایس ایچ او غلام علی کنڈرانی نے مظاہرین سے کامیاپ مزاکرات کے بعد قومی شاہراہ کو کھلوا دیا گیا جس سے ٹریفک کی روانگی بحال ہوئی احتجاج کرنے والوں نے ائی جی پولیس بلوچستان ڈی آئی جی پولیس نصیراباد رینج اور ایس ایس پی نصیراباد سے پر زور مطالبہ کیا کہ واقعے کی صاف و شفاف تحقیقات کی جاے ان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں