نظم

وہ جو لوٹ کر نہیں آئے
وہ جو شام کے بعد
گھر کی دہلیز پر نظر نہیں آئے
جن کے نام پر
ماؤں کی دعائیں کانپتی رہیں
جن کی تصویریں
سینوں سے لگا کر
عمر گزار دی گئی۔
کوئی جانتا ہے
وہ کس موڑ پر رکے؟
کس اندھیرے میں
ان کی آواز دب گئی؟
کس قانون نے
ان کا نام مٹا دیا؟
مائیں آج بھی
دروازہ آہستہ کھولتی ہیں
شاید قدموں کی آہٹ ہو
شاید وہی مسکراہٹ
وقت کو چیرتی ہوئی لوٹ آئے۔
بہنوں کی کلائیوں پر
وقت رک گیا ہے
بھائی کی راہ میں
چوڑیاں نہیں ٹوٹتیں
بس انتظار لمبا ہو جاتا ہے۔
یہ صرف لاپتہ لوگ نہیں
یہ گمشدہ انصاف ہے
یہ زخمی انسانیت ہے
یہ سوال ہے
جو ہر ضمیر سے پوچھتا
کیا کسی کو
یوں مٹا دینا
اتنا آسان ہے؟
ہم انہیں نہیں بھولیں گے
کیونکہ یاد رکھنا
مزاحمت ہے
اور سچ کی ایک دن
واپسی ضرور ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں