اوتھل ڈاکخانہ کی نئی عمارت 12 برس میں خستہ حال، ناقص تعمیر پر عوامی حلقوں کی تشویش

لسبیلہ(بیوروچیف)اوتھل میں محکمہ ڈاکخانہ کی وہ عمارت جو سال 2013 میں تعمیر کی گئی تھی، محض بارہ برس بعد ہی انتہائی خستہ حالی کا شکار ہوچکی ہے اور اب دفتری استعمال کے قابل نہیں رہی۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ اس کے باوجود محکمہ ڈاک کا عملہ اسی بوسیدہ اور غیر محفوظ عمارت میں بیٹھ کر روزمرہ دفتری امور سرانجام دینے پر مجبور ہے، جس سے کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔زرائع کے مطابق ڈاکخانہ کی اس عمارت کی تعمیر کے دوران ٹھیکیدار کی جانب سے انتہائی ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا، جس کے باعث عمارت کم عرصے میں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ دیواروں میں دراڑیں، چھت کی شکستگی اور دیگر ساختی نقائص واضح طور پر ناقص تعمیر کی نشاندہی کر رہے ہیں، جو سرکاری فنڈز کے بے دریغ ضیاع کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس سے قبل موجود پرانی ڈاکخانہ عمارت کو ناکارہ قرار دے کر نئی عمارت تعمیر کی گئی تھی، تاہم نئی عمارت بھی چند ہی برسوں میں اسی انجام سے دوچار ہو گئی، لسبیلہ کے عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، عمارت کی تعمیر میں ناقص مٹیریل استعمال کرنے والے ٹھیکیدار اور اس کی منظوری دینے والے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور محکمہ ڈاک کے عملے و عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے سانحے کا اندیشہ رد نہیں کیا جا سکتا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں