کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا دارالحکومت کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے ہسپتالوں میں ادویات ہیں اور نہ ہی ڈاکٹرز ڈیوٹیوں پر موجود ہیں بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود کارکنوں اور جیالوں کے کام نہیں ہورہے ہیں الٹا انہیں عوام کے طعنے سننے کو مل رہے ہیں اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ انتخابات میں صوبے میں پیپلز پارٹی کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ کوئٹہ بلوچستان کا دارالخلافہ ہونے کے باوجود تما م تر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں کوئٹہ شہر کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں سول ہسپتال، بولان میڈیکل ہسپتال،بے نظیر ہسپتال،شیخ زید ہسپتال میں روزانہ علاج معالجے کی غرض سے آتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں نہ تو ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی وہاں انہیں کوئی ادویات ملتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اسوقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے لیکن پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے کام نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے مایوسی پھیل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزراء،ارکان قومی و صوبائی اسمبلی عوام کی خدمت کیلئے آنے والے فنڈز عوام کی ترقی و خوشحالی پر خرچ کرنے کی بجائے کرپشن اور بدعنوانی میں لگے ہوئے ہیں اوراپنے بینک بیلنس میں اضافہ کر رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ انتخابات میں بلوچستان میں پیپلز پارٹی کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی،کرپشن اور بدعنوانی اور کارکنوں کے مسائل حل نہ ہونے کا نوٹس لیں بصورت دیگر پیپلز پارٹی کے جیالے وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ سمیت سخت احتجاج پر مجبورہونگے۔

