ہوشاپ اور تالاب کے زمینداروں کیساتھ زیادتی ناقابل قبول ہے، میر امان اللہ خان نوتیزئی

دالبندین (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر، سخی میر امان اللہ خان نوتیزئی نے تفتان، وشاپ اور تالاب کے زمینداروں کی زرعی بجلی بند کرنے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واپڈا نے زمینداروں کا معاشی قتل کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسے پاکستان کی زراعت اور معیشت سے کوئی دلچسپی نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے زمینداروں کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کیا گیا تھا کہ جب تک ان زمینوں پر سولر سسٹم نصب نہیں ہو جاتے، زرعی بجلی بند نہیں کی جائے گی۔ افسوس کہ فصل کی تیاری کے اس نازک مرحلے پر بجلی بند کر کے زمینداروں کو ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کیا جا رہا ہے۔میر امان اللہ نوتیزئی نے مزید کہا کہ ضلع چاغی میں سرکاری افسران کے پاس اختیارات نہیں، اصل فیصلے کہیں اور سے کیے جا رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دانستہ طور پر چاغی کے پرامن حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے حکومتِ بلوچستان، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی بجلی کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور زمینداروں سے کیے گئے وعدے کے مطابق سولر پینلز کی تنصیب کا عمل ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے، تاکہ فصلوں کو بچایا جا سکے۔سخی امان اللہ نوتیزئی نے خبردار کیا کہ اگر واپڈا اور متعلقہ اداروں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو زمیندار اپنے حق کے لیے احتجاج پر مجبور ہوں گے، اور اس احتجاج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔انہوں نے زمینداروں کو پیغام دیا “آپ خود کو تنہا نہ سمجھیں، میں اور میری جماعت ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ صرف آپ کی نہیں، بلکہ بلوچستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں