اداریہ
بیسویں صدی کے عالمی سیاسی منظرنامے کو اگر کسی ایک واقعے نے یکسر بدل دیا تو وہ 1991ء میں سوویت یونین کا انہدام تھا۔ ایک ایسی سپر پاور جو نصف دنیا پر نظریاتی اور عسکری اثر رکھتی تھی، اچانک تاریخ کا حصہ بن گئی۔ سوال آج بھی زندہ ہے: کیا یہ ایک نظریاتی و معاشی نظام کی ناکامی تھی، یا اس نظام کو چلانے والوں کی کمزوری؟
سوویت ماڈل کی بنیاد مرکزی منصوبہ بندی، ریاستی ملکیت اور یک جماعتی سیاست پر تھی۔ ابتدا میں اس نظام نے تیز رفتار صنعتی ترقی، تعلیم و صحت کی توسیع اور جنگ عظیم دوم میں فیصلہ کن کردار جیسے کارنامے انجام دیے۔ مگر وقت کے ساتھ یہی ڈھانچہ جمود کا شکار ہو گیا۔ مسابقت کی عدم موجودگی، قیمتوں کے مصنوعی تعین اور اختراعی ترغیبات کی کمی نے معیشت کو سست کر دیا۔ صارفین کی بنیادی اشیاء کی قلت اور طویل قطاریں ایک طاقتور ریاست کی کمزور معاشی نبض کی علامت بن گئیں۔
اسی دوران عسکری اخراجات کا بوجھ بڑھتا گیا۔ امریکہ کے ساتھ سرد جنگ کی دوڑ اور افغانستان میں طویل جنگ نے وسائل کو نچوڑ ڈالا۔ یوں معیشت دباؤ کا شکار ہوئی، اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا۔
پھر اصلاحات کا مرحلہ آیا۔ مخائل گورباچوف نے پیریستروئیکا (معاشی تنظیمِ نو) اور گلاسنوست (کشادگی) کے ذریعے نظام کو بچانے کی کوشش کی۔ نیت اصلاح کی تھی، مگر نتیجہ غیر متوقع نکلا۔ جب اظہارِ رائے کی آزادی بڑھی تو دبے ہوئے مسائل اور تاریخی شکوے بھی سامنے آ گئے۔ وفاق کی مختلف جمہوریاؤں میں قومیت پرستی کی تحریکیں تیز ہوئیں۔ 1991ء کی ناکام بغاوت اور پھر بورس یلسن کی قیادت میں یونین کے خاتمے کے اعلان نے اس عمل کو حتمی شکل دے دی۔
تو کیا نظام ناکام تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر نظام اپنی ساختی حدود رکھتا ہے۔ مکمل مرکزی منصوبہ بندی میں لچک کم اور اصلاح کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بہتر قیادت، شفاف حکمرانی اور تدریجی اصلاحات بعض اوقات سخت نظاموں کو بھی نئی زندگی دے سکتی ہیں۔ سوویت تجربہ اس بات کی مثال ہے کہ جب ساختی کمزوریاں اور سیاسی غلطیاں ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو زوال تیز ہو جاتا ہے۔
آج کی دنیا کے لیے سبق واضح ہے: کوئی بھی نظام — خواہ سرمایہ دارانہ ہو یا اشتراکی — اگر عوامی شمولیت، شفاف احتساب اور معاشی لچک سے محروم ہو جائے تو اس کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ریاستیں طاقت سے نہیں، اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔ سوویت یونین کا انہدام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نظریات سے زیادہ اہم ان پر عملدرآمد کی حکمت، وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگی، اور عوام کی آواز کو جگہ دینا ہے۔

